
مفتی صاحب لڑکی نے جس لڑکے سے نکاح کرنا تھا اس کو ویڈیو پیغام بھیج کر اپنا وکیل بنایا، نکاح والے دن مجلس میں تین افراد تھے دولہا (جو کہ لڑکی کا وکیل بھی تھا) اور ایک نکاح خواں اور ایک گواہ جو لڑکی کے گھر والوں کو جانتا تھا، موجود تھے۔ نکاح خواں نے مزید فون پر کال کر کے لڑکی سے لڑکے کا نام ولدیت اور حق مہر بتا کر ایجاب و قبول کروایا، جس کی آواز صرف فون سننے والے کو آئی ،اور اسی طرح لڑکے سے لڑکی کا نام ولدیت اور حق مہر بتا کر ایجاب وقبول کروایا، دولہالڑکی کی طرف سے بطورِ وکیل بھی تھا،بس یہ ہے کہ ایجاب وقبول فون پر کروایا ہے، کیا ایسے نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟
بصورتِ مسئولہ لڑکی کا دولہا کو اپنے نکاح کا وکیل بنانا درست تھا،تاہم نکاح کی مجلس میں دولہا نے دلہن کی طرف سے بطورِ وکیل ایجاب و قبول نہیں کیا ہے، بلکہ نکاح خواں نے بذریعہ فون لڑکا لڑکی کےمابین ایجاب و قبول کروایا ہے، تو اِس صورت میں شرعاً یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ہے، اور لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے حق میں اجنبی اور نامحرم ہی ہیں۔
دونوں اگر ساتھ رہنا چاہیں تو ازسرِ دومردگواہان کے روبرو ایجاب و قبول کرنا لازم ہے، اور اگر لڑکا لڑکی کی طرف سے بطورِ وکیل ایجاب کرناچاہے تو دو ایسے گواہان جو لڑکی کوجانتے ہیں، اُن کے روبرواِن الفاظ میں ایجاب و قبول کرے "مجھے فلانۃ بنت فلاں نے اپنے نکاح کا اختیار دیا اور وکیل بنایا ہے، لہذا میں اس لڑکی کو اپنے نکاح میں قبول کرتا ہوں۔"
نیز ویڈیو وغیرہ میں جاندار کی تصویر بنانا، دیکھنااور دکھاناجیسے ناجائز امور کا ارتکاب لازم آتا ہے، لہذا ویڈیو بنانے سے اجتناب ضروری ہے۔
الدر المختار مع رد المحتارمیں ہے:
"و من شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد."
(کتاب النکاح، ج: 3، ص: 14، ط:سعيد)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله: ومن أمر رجلاً أن يزوج صغيرته فزوجها عند رجل والأب حاضر صح، وإلا فلا؛ لأن الأب يجعل مباشراً للعقد باتحاد المجلس ليكون الوكيل سفيراً، ومعبرًا فبقي المزوج شاهدًا، وإن كان الأب غائبًا لم يجز."
(كتاب النكاح ، ج:3، ص:97، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101230
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن