
باکرہ کی خاموشی اجازت شمار ہوتی ہے۔
1: باکرہ بالغہ دلہن سے اگر باپ ولی نکاح کی قبولیت کا پوچھے اور دلہن خاموش رہے تو یہ خاموشی ہاں میں شمار ہے یا نہیں؟
2: باپ ولی مولوی صاحب کے ساتھ مسجد میں بیٹھ گیا اور باکرہ بالغہ دلہن سے نکاح کے وقت قبولیت کا پوچھنے اور کوئی محرم یا غیر محرم رشتہ دار گیا۔
کیا اب بھی دلہن کی خاموشی ہاں میں شمار ہوگی؟
جواب: کسی شخص کے ساتھ نکاح کی اجازت لیتے ہوئے باکرہ بالغہ لڑکی کا خاموش رہنا شرعاً اجازت شمار ہوتا ہے، خواہ باپ اجازت لے رہا ہو یا کوئی اور فرد، اور محرم ہو یا غیرمحرم، البتہ بہتر یہ ہے کہ ایسے موقع پرمحرم اجازت لے، اور کسی ضرورت کی بنا پر نامحرم اجازت لے تو پردے کا اہتمام لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم
فإن استأذنها غیر الأب کأجنبي أو ولي بعید فلا عبرة لسکوتها بل لابد من القول کالثیب البالغة ․․․ أو ما في معناہ من فعل یدل علی الرضا كطلب مهرہا ونفقتها وتمکینها من الوطء ودخوله بها برضاها․ ظهیریه و”قبول التهنئة“ والضحک سرورًا ونحو ذلک․(الدر المختار: ۴/ ۱۶۴ط زکریا باب الولی)
حضرت والا آپ کے جواب اور دارالعلوم دیوبند کے جواب میں اختلا ف پایا جارہاہے، دونوں کے درمیان تطبیق کی شکل کیا ہوگی ؟
میں نے شامی کی عبارت بھیجی ہے امید کہ جواب مرحمت فرما کر شکریہ کا موقع دیں گے۔
واضح رہے کہ کے باکرہ بالغہ کی خاموشی اگر والد یا ولی اقرب اجازت لے رہاہےتو شرعاً اجازت شمار ہوتی ہے،لیکن اگرباپ یا ولی اقرب کے علاوہ کوئی اور آدمی لڑکی سےاجازت لے رہا ہے،اور لڑکی باکرہ بالغہ ہے تو اس کا سکوت کافی نہیں ،صراحتاً اس کااجازت دینامعتبر ہوگا۔
فتوی نمبر:143801200019 میں تسامح ہوا ہے،اس کی تصحیح کردی گئی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(فإن استأذنها غير الأقرب) كأجنبي أو ولي بعيد (فلا) عبرة لسكوتها (بل لا بد من القول كالثيب).
(قوله كأجنبي) المراد به من ليس له ولاية فشمل الأب إذا كان كافرا أو عبدا أو مكاتبا لكن رسول الولي قائم مقامه فيكون سكوتها رضا عند استئذانه كما في الفتح والوكيل كذلك كما في البحر عن القنية (قوله أو ولي بعيد) كالأخ مع الأب إذا لم يكن الأب غائبا غيبة منقطعة كما في الخانية (قوله فلا عبرة لسكوتها) وعن الكرخي يكفي سكوتها فتح."
(کتاب النکاح، باب الولی، ج:3، ص:62، ط:سعید)
درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے:
"(وإن استأذنها غير الأقرب) أي الأجنبي أو ولي بعيد (فإذنها) لا يكون بالسكوت، بل (بالقول) ؛ لأن هذا السكوت لقلة الالتفات إلى كلامه فلم يدل على الرضا."
(کتاب النکاح، باب الولي والكفء، ج:1، ص:336، ط:دار إحياء الكتب العربية)
اَحسن الفتاوی میں ہے:
باکرہ بالغہ سے غیر ولی نے نکاح کی اجازت طلب کی تو سکوت کافی نہیں:
سوال:عبدالکریم مسماۃ جنت کو زبردستی اٹھا کر لے گیا، اور اپنے گھر لے جا کر اس سے نکاح کیا، مسماۃ جنت باکرہ بالغہ ہے، اور نکاح کے قبول کرنے سے انکار کررہی ہے، یہ نکاح شرعاً درست ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
جواب:باکرہ بالغہ سے اجازت لینے والا اگر ولیِ اقرب نہیں تو اس صورت میں باکرہ بالغہ کا سکوت معتبر نہیں، بلکہ اجازت بالقول ضروری ہے۔ لہٰذا مسماۃ جنت نے اگر زبان سے نکاح کی اجازت نہیں دی، تو یہ نکاح صحیح نہیں ہوا۔ اگر زبان سے اجازت دینے میں زوجین کا اختلاف ہے تو زوجین میں سے جو بھی بینہ پیش کرے، اسی کا قول معتبر ہوگا۔ اگر دونوں کے پاس بینہ ہے، تو زوجہ کی اجازت پر زوج کا بینہ معتبر ہوگا، اس کے مقابلہ میں زوجہ کا بینہ قبول نہ کیا جائے گا۔ البتہ اگر باکرہ کا نکاح ولیِ اقرب نے کیا ہو، تو زوجہ کا بینہ علی الرد، زوج کے بینہ علی السکوت پر راجح ہوگا۔ اگر کسی بھی طرف بینہ نہیں، تو زوجہ کا قول مع الیمین قبول کیا جائے گا۔قال فی شرح التنویر(فإن استأذنها غير الأقرب) كأجنبي أو ولي بعيد (فلا) عبرة لسكوتها (بل لا بد من القول كالثيب)،واَیضا فیہ(قال) الزوج للبكر البالغة (بلغك النكاح فسكت وقالت رددت) النكاح (ولا بينة لهما) على ذلك (ولم يكن دخل بها طوعا) في الأصح (فالقول قولها) بيمينها على المفتى به وتقبل بينته على سكوتها لأنه وجودي بضم الشفتين ولو بر هنافبينتها أولى إلا أن يبرهن على رضاها أو إجازتها،وفی الشامیۃقيد به لأن أيهما أقام البينة قبلت بينته بحر.(رد المحتارج2)فقط واللہ اعلم
(ج:5، ص:95/96، ط:سعید)
فتاوی مفتی محمود میں ہے:
باکرہ بالغہ کا ولی اقرب نہ ہو تو سکوت کافی نہیں، اجازت ضروری ہے
س:ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر علیحدہ کردیاتھا۔بعد گزرنے عدت کے اس عورت نے دوسری جگہ نکاح کرلیا،وقت طلاق سے پہلے خاوند کی مطلقہ سے ایک لڑکی بھی تھی،جو بوجہ نابالغی اپنی والدہ کے ساتھ چلی گئی،جب لڑکی بالغ ہوئی اور اس کے والد کو اس کا علم ہوا تو والد نے بغیر اجازت اپنی لڑکی کا نکاح روبرو گواہاں کردیا اور اس کے مربی کو اس امر کی اطلاع کردی کہ میں نے لڑکی کا نکاح کردیا،آپ کو اطلاع ہونی چاہیے،لڑکی کو جب اس معاملہ کی اطلاع ہوئی تو اس نےاقرار یا انکار کا کوئی اظہار نہیں کیا،لیکن قلباً وہ والد کے نکاح پر رضامند نہیں ہے،یہ نکاح ہوجائےگا(باقی رہے گا یا نہیں)،نیز لڑکی کا مربی خرچہ کا مطالبہ کرتاہے،کیا شرعاً اس کا مطالبہ درست ہے اور والدپر خرچہ دینا واجب ہے یا نہیں؟فقط بینوا توجروا۔
ج:باکرہ بالغہ سے اجازت لینے والا اگر والی اقرب نہیں تو اس صورت میں باکرہ کا سکوت کافی نہیں ،بلکہ اجازت بالقول ضروری ہے اور صورتِ مسئولہ میں تو سرے سے اجازت بھی طلب نہیں کی گئی،اجنبی آدمیوں کی طرف سے اطلاع ہونے کی صورت میں لڑکی کا خاموش رہنا رضامندی نہیں،لہذااس لڑکی نے اگر زبان سے اس نکاح کی اجازت نہیں دی تو یہ نکاح صحیح ہوا،قال فی شرح التنویر مصري ص:62، ج:3، (فإن استأذنها غير الأقرب) كأجنبي أو ولي بعيد (فلا) عبرة لسكوتها (بل لا بد من القول كالثيب)باقی لڑکی کو والد کے حوالہ کرنا ضروری ہے،اگر لڑکی کو والد کے حوال نہیں کرتا تو مربیٰ کا دعویٰ خرچہ کا صحیح نہیں،گذشتہ عرصہ کا خرچہ بھیاگر مربی نے ازخود کیا ہے اور لڑکی کو باپ کے حوالے نہ کرتے ہوئے اپنے پاس رکھ لیا تھا تواس خرچہ کا حق بھی اب مربی کو نہیں پہنچتا۔فقط واللہ اعلم
(ج:4، ص:371/372، ط:اشتیاق اے مشتاق پریس لاہور)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144507101842
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن