بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹیوں دو بھائیوں اور دو بہنوں میں میراث کی تقسیم


سوال

ایک عورت جس کا انتقال ہوچکا ،اس کے ورثاء میں دو بیٹیاں ،دو بہنیں اور دو بھائی ہیں ،ان میں وراثت کتنے حصوں میں تقسیم کی جائے گی قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحومہ کے حقوق متقدمہ، یعنی تجہیز و تکفین (کفن ، دفن)کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحومہ  کے ذمہ کوئی قرض  ہو تو اسے باقی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد اگر مرحومہ   نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  حصے میں سے نافذ کرنےکےبعد باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو  18     حصوں میں تقسیم کر کے مرحومہ   کی ہر بیٹی کو 6 حصے ،ہر بھائی کو 2 حصے اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا ۔

صورت تقسیم یہ ہے : 18/3

بیٹی بیٹی بھائی بھائی بہن بہن
21
662211

یعنی 100 روپے میں سے 33.33 روپے ہر بیٹی کو ،11.11 روپے ہر بیٹے کو اور 5.56 روپے ہر بیٹی کو ملیں گے ۔

ملحوظہ:یہ تقسیم اس وقت ہے جب کہ مرحومہ کے مذکورہ ورثاء ہی ہوں ،اگر مذکورہ ورثاء کے علاوہ اور بھی لوگ ہوں مثلا:شوہر ،بیٹا،والد ،والدہ ،دادا،دادی وغیرہ تو اس صورت میں تقسیم دوسرے  طریقہ سے ہوگی ۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100791

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں