
میں نے رمضان میں روزہ افطار کرکے ہمبستری کی تھی، اس وقت مجھے مسئلہ پتا نہیں تھا، اب پتا چلا ہے کے مُسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے ہونگے ، اب بات یہ ہے کے ایک تو میرا کام باہر کا ہے، اور دوسرا صحت بھی کمزور ہے، دو دفعہ کوشش بھی کی، لیکن نہیں رکھ پایا اور طبیعت بھی خراب ہوگئی، تو اس صورت میں فدیہ دیا جاسکتا ہے اور کیا 60 دن کا ایک ساتھ دینا ہوگا یا تھوڑا تھوڑا کرکے دے سکتے ہیں؟
صورت ِمسئولہ میں اگر سورج غروب ہونے کے بعد ہمبستری کی تو قضاءاور کفارہ نہیں ہے، اور اگر سورج غروب ہونے سے پہلے ہمبستری کی تو قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہیں، اور کفارہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنا ہے، اگر مسلسل ساٹھ روزے رکھنے کی طاقت فی الحال نہیں ہے، اور آئندہ بھی امید نہیں ہے تو ساٹھ مسکینوں کو صبح و شام دو وقت کا کھانا کھلادیں، یا ساٹھ مسکینوں کو ایک ہی دن میں صبح و شام دو وقت کاکھلادیں،یا ایک مسکین کو ساٹھ دن تک صبح وشام دو وقت کا کھانا کھلادیں تو کفارہ ادا ہوجائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"من جامع عمدًا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولايشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةً، وإن كانت مكرهةً فعليها القضاء دون الكفارة، وكذا إذا كانت مكرهةً في الابتداء ثم طاوعته بعد ذلك كذا في فتاوى قاضي خان".
(کتاب الصوم ،الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد، ج: 1، ص: 205، ط: دارالفکر)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله ومن جامع أو جومع أو أكل أو شرب عمدا غذاء أو دواء قضى وكفر ككفارة الظهار) أما القضاء فلاستدراك المصلحة الفائتة، وأما الكفارة فلتكامل الجناية أطلقه فشمل ما إذا لم ينزل؛ لأن الإنزال شبع؛ لأن قضاء الشهوة يتحقق دونه، وقد وجب الحد بدونه، وهو عقوبة محضة فما فيه معنى العبادة أولى، وشمل الجماع في الدبر كالقبل، وهو الصحيح والمختار أنه بالاتفاق كذا ذكره الولوالجي لتكامل الجناية لقضاء الشهوة."
(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج: 2، ص: 297، ط: سعيد)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"مطلب في الكفارة (قوله: ككفارة المظاهر) مرتبط بقوله وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة فلو أفطر ولو لعذر استأنف إلا لعذر الحيض وكفارة القتل يشترط في صومها التتابع أيضا وهكذا كل كفارة شرع فيها العتق نهر۔"
(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لايفسد، ج: 2، ص: 412، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101921
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن