
چھوٹی بچی کا پیشاب لگ گیا بندے کو ،اس کے بعد اس نے جاکے وہ ہاتھ لگایا ٹوٹی کو، جس ہاتھ پر بچی کا پیشاب لگا ہواہے تو یہ نل پاک ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں جب تک نل پر نجاست لگنے کا یقین نہ ہو اس وقت تک نل ناپاک نہیں ہوگا اور اگر نل پر نجاست کاظاہری اثر نظر آئے تو پھر نل کا وہ حصہ جہاں نجاست لگی ہوئی ہو ناپاک ہوجائے گا ۔
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
"و لو ابتل فراش أو تراب نجسا" وكان ابتلالهما "من عرق نائم" عليهما "أو" كان من "بلل قدم وظهر أثر النجاسة" وهو طعم أو لون أو ريح "في البدن والقدم تنجسا" لوجودها بالأثر "وإلا" أي وإن لم يظهر أثرها فيهما "فلا" ينجسان."
(باب الأنجاس والطهارة عنها، ص:158، ط:دارالكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101275
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن