بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

تنگ دست مقروض کے ساتھ حسنِ سلوک اور قرض کی ادائیگی میں مہلت دینے کی فضیلت


سوال

2007ء کی بات ہے میں ایک کار وباری شخص سے ملنے کے بعد اس کے اخلاق سے متاثر ہوا اور دوستانہ تعلقات شروع ہوئے، میں نے ساتھ کام کرنے کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ جب وقت آجائےگا میں بتادوں گا، 2010 ء میں کچھ معاملات ہوئے اور 2020 تک جاری رہے ، میں رقم ادا کرتاتھا  اور ضرورت کے وقت واپس لیتاتھا، آخری بار رقم وصول ہونے سے پہلے اس شخص کا انتقال ہوا اور مجھے بہت زیادہ افسوس ہوا، لیکن مجھے باہر ملک جانا تھا اور رقم کی ضرورت تھی میں نے ان کے بیٹے کو بتایا ،اس نے اپنے چچا سے بات کی ، انہوں نے کہا آپ کا قرض مرحوم کی ڈائری میں لکھا ہوا ہے ہم آپ کے دین دار ہیں اور پہلی فرصت میں ہی آپ کا قرضہ ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ 

اب میں چھ ماہ کے بعد آیا ہوں وہ لوگ مجھ سے بڑے اچھی طرح ملے، چونکہ مجھے رقم کی اشد ضرورت تھی میں نے پھر مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے دین دار ہیں لیکن آج کل ماکیٹ کے حالات بہت خراب ہیں اور پراپرٹی کی قیمت بہت کم مل رہی ہے، حالات اچھے ہوتے ہی پہلی فرصت میں ہم آپ کا قرض ادا کریں گے۔

آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ان حالات میں میری رہنمائی کی جائے ، کہ شرعی اعتبار سے ہمارے معاملے کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ مرحوم شخص کے ساتھ سائل کے کاروباری معاملات تھے اور اس بناء پر مذکورہ شخص کے پاس سائل کی رقم رہ گئی ہواور اس شخص کا انتقال ہوچکا ہے ، تو سائل کی جس قدر رقم مرحوم کے ذمہ لازم تھی ، یا کاروباری شراکت کی بناء پر سائل کا جس قدر سازوسامان ان کے پاس رہ گیا،تووہ سائل کی جانب سے مذکورہ مرحوم کے ذمہ قرض شمار ہوگا۔

مرحوم کے ترکہ سے اولاً قرض کی ادائیگی ورثاء پر لازم ہے ۔ نیز جب مرحوم کے ورثاء قرض کا اقرار کرتے ہیں کہ  لیکن مارکیٹ کے حالات کی وجہ سے فوری آپ کا قرضہ ادا نہیں کرسکتے  اور دوسری طرف سائل ضرورت کی وجہ سےاپنے قرضے کا مطالبہ کر رہا ہے، تو  اس صورت حال میں مرحوم کے ورثاء قرضہ  ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں اوران کو جلد از جلد قرضہ ادا کرنے کی ترتیب بنانی چاہیے ،اگر مرحوم کا ترکہ موجود ہے تو اس سے کاروبار کی بجائے اولاً قرض کی ادائیگی کی جائے ۔ 

البتہ اگر سائل مرحوم کے ورثاء  کو مطلوبہ مدت تک مہلت دیں یا قرضہ کا کچھ حصہ چھوڑدیں ، تو  سائل عنداللہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔

حدیث شریف میں  ہے :

"... وعن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن رجلا كان فيمن قبلكم أتاه الملك ليقبض روحه فقيل له: هل علمت من خير؟ قال: ما أعلم. قيل له انظر قال: ما أعلم شيئا غير أني كنت أبايع الناس في الدنيا وأجازيهم فأنظر الموسر وأتجاوز عن المعسر فأدخله الله الجنة."

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ پہلے زمانے میں ایک شخص کے پاس ملک الموت ان کی روح قبض کرنے آئے تو ان سے پوچھا گیا کوئی اپنی نیکی تمہیں یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے تو یاد نہیں پڑتی۔ ان سے دوبارہ کہا گیا کہ یاد کرو! انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی اپنی نیکی یاد نہیں، سوا اس کے کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کیا کرتا تھا اور لین دین کیا کرتا تھا، جو لوگ خوشحال ہوتے انہیں تو میں (اپنا قرض وصول کرتے وقت) مہلت دیا کرتا تھا اور تنگ ہاتھ والوں کو معاف کر دیا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی پر جنت میں داخل کیا۔

( مشكاة المصابيح، كتاب البيوع، باب المساهلة في المعاملات، الفصل الأول، ج: 2، ص: 850، ط: المكتب الإسلامي )

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح  میں ہے: 

" ( قال: ما أعلم شيئا، غير أني كنت ) : أي قبل ذلك ( أبايع الناس) : أي أعاملهم ( في الدنيا ) : أي في أمورها ( وأجازيهم ) : أي أحسن إليهم حين أتقاضاهم ( فأنظر الموسر ) : من الإنظار، أي أمهل الغني ( وأتجاوز عن المعسر ) : أي أعفو عن الفقير وإبراء ذمته عن الدين كله أو بعضه ( فأدخله الله الجنة ) : قال النووي رحمه الله: فيه فضل إنظار المعسر والوضع عنه قليلا أو كثيرا، وفضل المسامحة في الاقتضاء من الموسر، وفيه عدم احتقار أفعال الخير، فلعله يكون سببا للسعادة والرحمة."

 ( كتاب البيوع، باب المساهلة في المعاملات، الفصل الأول، ج: 5، ص:  1908، ط: دارالفكر )

صحيح مسلم میں ہے: 

" عن ربعي بن حراش أن حذيفة حدثهم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تلقت الملائكة روح رجل ممن كان قبلكم، فقالوا: أعملت من الخير شيئا؟ قال: لا. قالوا: تذكر! قال: كنت أداين الناس فآمر فتياني أن ينظروا المعسر، ويتجوزوا عن الموسر. قال: قال الله عز وجل: تجوزوا عنه ... عن أبي الزناد ، عن الأعرج ، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: مطل الغني ظلم، وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع ."

( کتاب البیوع، باب فضل إنظار المعسر و باب تحريم مطل الغني وصحة الحوالة، ج: 5، ص: 32- 34، ط: دار الطباعۃ العامرۃ ترکیا )

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144712100837

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں