بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1447ھ 10 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تعمیرکا ٹھیکہ لے کر دوسرے ٹھیکہ دار سے کام کروانا


سوال

میں ٹھیکہ پر گھر وغیرہ بنانے کے فی فٹ60 -70روپےلیتا ہو ں،پھر کسی دوسرے شخص کو 50روپے فی فٹ بنانے پر دیتا ہوں، تو کیا ہمارے احناف کے نزدیک اس طرح معاملہ درست ہے ؟نیزکبھی  یہ دوسرا شخص تیسرے کے ساتھ 40روپے فی فٹ معاملہ کرتا ہے ،لہذا اس کے حکم سے مطلع فرمائیں !

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرسائل (ٹھیکدار)زمین کے مالک سےگھر بنانے کا ٹھیکہ لیتے ہوئے مطلقاًمعاملہ کرتا ہےکہ یعنی مالک زمین(مکان) سےیوں معاملہ کیا جاتا ہے کہ   فی فٹ 60 یا 70 روپے کے حساب سے  مکان کی تعمیر کردوں گاتو پھرایسی صورت میں سائل کا اپنے مزدوروں سےتعمیر  کروانا یا دوسرے شخص کو کم قیمت(50 روپے فی فٹ) میں ٹھیکہ  دے کر کام مکمل کروانا،دونوں صورتیں شرعاً جائز ہیں،اور دوسرے ٹھیکہ دار سے کام کروانے کی صورت میں سائل کے لیے درمیان کا نفع رکھنا بھی جائز ہوگا۔
تاہم اگر سائل کو ٹھیکہ دیتے ہوئے مالکِ زمین نے یہ شرط لگائی کہ آپ اپنے مزدوروں سے ہی تعمیر کروائیں گے تو پھر سائل کے لیے کسی دوسرے کو آگے گھر کی تعمیر کا ٹھیکہ دینا شرعاًجائز نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:

"‌وللأجير ‌أن ‌يعمل ‌بنفسه ‌وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه، إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛ لأن العقد وقع على عمل من شخص معين، والتعيين مفيد؛ لأن العمال متفاوتون في العمل فيتعين فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر، كمن استأجر جملا بعينه للحمل لا يجبر على أخذ غيره، ولو استأجر على الحمل ولم يعين جملا كان للمكاري أن يسلم إليه أي جمل شاء، كذا ههنا."

(كتاب الإجارة، فصل في حكم الإجارة، ج:4، ص:208، ط:دار الكتب العلمية)

اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:

"(وإذا اشترط) المستأجر (على الصانع أن يعمل بنفسه فليس له) : أي الصانع (أن يستعمل غيره) ؛ لأنه لم يرض بعمل غيره (وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله) ؛ لأن ‌المستحق ‌عملٌ ‌في ‌ذمته، ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره، بمنزلة إيفاء الدين، والعادة جارية أن الصناع يعملون بأنفسهم وبأجرائهم."

(کتاب الاجارۃ، ج:2، ص:102، ط:المكتبة العلمية)
فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں