بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1441ھ- 14 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تعلیق طلاق کی ایک صورت


سوال

دفعہ گیا تو پھر میں اس گھر میں کبھی نہیں آوں گا۔ آیا تو تو تین شرط پرمیری بیوی مجھ سے طلاق اس کے بعد گھر میں جھگڑے ہوتے رہے مگر وہ گھر سےنہیں گیا۔ ایک ماہ بعد پھر جگھڑا ہوا ۔ جگھڑا ختم ہونے پر وہ اپنے کمرےمیں گیا تو اس کے بڑے بھائی کا فون آیا کہ آپ اپنے بیوی بچوں کو لے کرمیرے پاس آو۔ اس نے فون میں کہا کہ کافی عرصہ پہلے میں نے مشروط طلاقڈالی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کے پاس ایک بار جانے کے بعد پھر کبھی واپس وہاس گھر میں نہ جاسکے ۔ بڑے بھائی نے کہا کہ آپ کا ارادہ تو نہیں ہے آنےکا مگر میں آپ کو بلاتا ہوں۔آپ اپنی مرضی سے نہیں آرہے ہو۔ چنانچہ بھائیکے کہنے پر وہ اس کے گھر گیا۔ اس کے بعد تعلیق بھول کر یہ شخص اپنے گھرگیا ہے۔ لہذا تین طلاقیں واقع ہوءی یا نہیں؟بینوا توجروا۔المستفتی عبد اللہ گلگتنوٹ: سائل کا کہنا ہے کہ وہ جھگڑے کے بعد کمرے میں سوگیا پھر بعد میں دیرسے بھائی کے بلانے پر گیا تھا اس لئے تعلیق متحقق نہیں ہونی چاہئے۔

جواب

اگر شوہر کے الفاظ یہ تھے کہ ایک دفعہ س گھرسے گیا تو پھر کھبی نہیں آؤں گا آیا تو میری بیوی تین شرط کے ساتھ طلاق،اور پھر وہ گھر آگیا تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوں گئیں ہیں۔اگر الفاظ اس سے مختلف تھے تو دوبارہ معلوم کرلیا جائے۔نوٹ: یہ سوال واضح نہ ہونے کی بنا پر ایک بار واپس بھی ہوا تھا۔


فتوی نمبر : 143601200007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے