بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

تعلیق طلاق کی ایک صورت


سوال

السلام علیکم مفتی صاحب!میرا سوال یہ ہے اگر کوی آدمی ایسے بولے اگر اس لڑکی کی سوا جس سے بھی میرا نکاح ہوجایی اس پر طلاق ہوں طلاق ہو تین دفع طلاق ہو بار بار طلاق ہو اس لڑکی کی سوا کسی سے نکاح نہی کروگا.کیا یہ آدمی جب بھی نکاح کریگا ایک طلاق واقع ہوگا یا تین طلاقیں واقع ہوگی یا بار بار کسی سے نکاح کریگا طلاقیں واقع ہوگی اور ایسے صورت میں کس طرح نکاح کرے اور یہ آدمی‎ ‎اب تک غیر شادی شدۂ ہے مھربانی کیجے جواب ضرور دیں.‏faridshah555@gmail.com

جواب

محترم آپ یہ سوال مختلف انداز سے کئی بار دریافت کرچکے ہیں اور متعدد بار آپ کو جواب دیاجاچکا ہے، بھتر یہ ہے کہ کسی دارالافتاء میں حاضر ہوکر بالمشافہ اپنا مسئلہ حل کروالیں تاکہ آپ کی پریشانی ختم ہوسکے اور وقت کے ضیاع سے بھی بچ جائیں۔


فتوی نمبر : 143506200041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے