
میرے شوہر نے مجھے ایک مرتبہ جھگڑے کے دوران یہ کہا کہ "طلاق"اس کے بعد عدت کے اندر ہم نے رجوع کیا تھا ،اس کے بعد گزشتہ سال جون میں انھوں نے مجھے کہا کہ ”تم ماموں کے گھر نہیں جاؤگی ،اگر ماموں کے گھر گئی تو تمھیں طلاق ہے ،طلاق ہے ،طلاق ہے “انہوں نے جب یہ جملہ بولا ،تو اس کے بعد ہمارا رجوع ہوگیا تھا ، اور میں چھ ماہ سسرال میں رہتی رہی ،اس کے بعد جب بھی میری والدہ ہمارے گھر آتیں تو وہ کہتے اپنی بیٹی کو لے جاؤ،ورنہ میں گھر سے نکال دوں گا،تو میری امی مجھے اپنے گھر لے آئیں ،اور اب وہ مجھے کہہ رہا ہے کہ واپس آجاؤ،۔
وضاحت: جب سے انہوں نے مجھے ماموں کے گھر جانے سے منع کیا ہے ،میں وہاں نہیں گئی ہوں ،البتہ میرے ماموں کا گھر نیچے ہے اور میری والدہ کا گھر اوپر ہے ،دروازہ دونوں کا ایک ہے ،اور راستے الگ الگ ہے ،تو میں اس دروازے سے داخل ہوکر اوپر اپنے والدہ کے گھر گئی ہو ں ۔
اب میرے لئے شرعی حکم کیا ہے ؟
صورت مسئولہ میں پہلی صورت میں جب شوہر نے بیوی کو جھگڑے کے دوران یہ الفاظ کہے کہ "طلاق" ، تو اس سے بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ،اور جب عدت کے اندر خاوند نے رجوع کیا تو دونوں کا نکاح دوبارہ برقرار رہا ،اور آئندہ کے لئے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہا ۔
اس کے بعد جب شوہر نے دوبارہ یہ کہا کہ: ”تم ماموں کے گھر نہیں جاؤگی ،اگر ماموں کے گھر گئی تو تمھیں طلاق ہے ،طلاق ہے ،طلاق ہے “ تو اس صورت میں چونکہ شوہر نے طلاق کو ماموں کے گھر جانے کے ساتھ معلق کیا ہے، اس لیے جیسے ہی سائلہ ماموں کے گھر جائے گی یا اس میں داخل ہوگی، تو اس پربقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوجائیں گی اور مجموعی اعتبار سے تین طلاقیں واقع ہوکر وہ شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔البتہ جب تک سائلہ ماموں کے گھر میں داخل نہیں ہوتی، تب تک وہ اپنے شوہر کے نکاح میں برقرار رہے گی۔
اور جو صورت ِ حال سوال میں ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں گھروں کا مرکزی دروازہ تو ایک ہے لیکن راستے الگ الگ ہیں، تواگر خاوند کی نیت خاص ماموں کے گھر میں داخل ہونے کی ہو ،یا عرف میں دونوں پر الگ الگ گھروں کا اطلاق ہوتا ہو (یعنی دونوں گھروں کا صحن ،کچن وغیرہ سب کچھ الگ ہو)،تو اس صورت میں صرف مشترکہ دروازہ استعمال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ البتہ اگر سائلہ ماموں کے گھر میں داخل ہوگئی، تو اس صورت میں شرط پائی جانے کی وجہ سے طلاق واقع ہوجائے گی۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"فإن قال: ذلك في حال سؤال الطلاق أو في حال الغضب فهي واحدة يملك الرجعة ولا يدين إنه ما أراد به الطلاق في القضاء، وإن قال في غير حال الغضب ومذاكرة الطلاق يدين في القضاء".
(کتاب الطلاق ، فصل فی النیة في أحد نوعي الطلاق، ج: 3، ص: 102، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے :
"ولايلزم كون الإضافة صريحةً في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق، فقيل له: من عنيت؟ فقال امرأتي، طلقت امرأته. اهـ. على أنه في القنية قال عازياً إلى البرهان صاحب المحيط: رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر، فقال: إني حلفت بالطلاق أني لاأشرب وكان كاذباً فيه ثم شرب طلقت... فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحاً ".
(کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق ، ج:3 ، ص: 248 ، ط:سعید)
المبسوط للسرخسی میں ہے :
"(قال)، وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي صلى الله عليه وسلم «طلق سودة - رضي الله تعالى عنها - بقوله اعتدي ثم راجعها» «وطلق حفصة رضي الله عنها ثم راجعها بالوطء» ويستوي إن طالت مدة العدة أو قصرت لأن النكاح بينهما باق ما بقيت العدة وقد روي أن علقمة رضي الله عنه طلق امرأته فارتفع حيضها سبعة عشر شهرا ثم ماتت فورثه ابن مسعود رضي الله عنه منها وقال إن الله تعالى حبس ميراثها عليك فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك".
( كتاب الطلاق ،باب الرجعة ،ج:6،ص: 19،ط:دار المعرفة )
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي".
(کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ،الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمة إن وإذا وغيرھما ،ج: 1، ص: 420، ط:دار الفكر ،بيروت)
فتاوی شامی میں ہے :
"وتنحل اليمين بعد وجود الشرط مطلقا لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها".
(کتاب الطلاق ،باب التعلیق ،مطلب فی اختلاف الزوجین فی وجود الشرط ، ج: 3، ص: 355، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"الأصل أن الألفاظ المستعملة في الأيمان مبنية على العرف عندنا كذا في الكافي.ولو حلف لا يدخل بيتا فدخل مسجدا أو بيعة أو كنيسة أو بيت نار أو دخل الكعبة أو حماما أو دهليزا أو ظلة باب دار لا يحنث وقيل: الجواب المذكور في مسألة الدهليز في دهليز يكون خارج باب الدار فإن كان داخل البيت ويمكن فيه البيتوتة يحنث والصحيح ما أطلق في الكتاب؛ لأن الدهليز لا يبات فيه عادة سواء كان خارج الباب أو داخله كذا في البدائع".
(كتاب الأيمان، الباب الثالث في اليمين على الدخول والسكنى وغيرهما، ج:2، ص:68، ط: دار الفکر ، بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102321
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن