بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا طالبات سے گفتگو کرنے کا حکم


سوال

بعض تعلیمی اداروں میں مرد اساتذہ درس کے بعد طالبات کے ساتھ غیر رسمی گفتگو  گپ شپ یا بے تکلف انداز میں بات چیت کرتے ہیں،  شرعاً اس کی کیا حیثیت ہے؟ کیا ضرورت سے زائد گفتگو یا بے تکلفی جائز ہے؟ اور پردہ، حیا اور حدودِ شرعیہ کے اعتبار سے اساتذہ اور طالبات کے لیے کن امور کا لحاظ ضروری ہے؟

 

جواب

صورت مسئولہ میں بالغ یا قریب البلوغ طالبات کا اپنے اساتذہ کے سامنے بے حجاب جانا، یا باحجاب ہوکر کے تنہائی میں ان کے پاس آنا، یا غیر ضروری گفتگو کرنا سب صورتیں شرعاً ناجائز ہیں، اس طرح کے افعال پر احادیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس  سے احتراز کرنا لازم ہے۔ 

البتہ اگر تعلیمی  درس گاہ میں   تعلیمی ضرورت ہو اور وہاں مخلوط ماحول نہ ہو،  اورطالبات   مرد استاذ سے پردہ کے پیچھے سے یا حجاب  میں رہ کر تعلیم حاصل کریں تو اس کی گنجائش ہوگی،  اور ایسی صورت میں کوئی شرعی قباحت لازم نہیں آئے گی۔

جامع ترمذی میں ہے: 

"عن ابن عمر، قال: خطبنا عمر بالجابية، فقال: يا أيها الناس إني قمت فيكم كمقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا قال:  أوصيكم بأصحابي، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل ولا يستحلف، ويشهد الشاهد ولا يستشهد،ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان....إلخ."

(أبواب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعة،  ج: 2، ص: 39، ط: قدیمی کتب خانه)

مشکوۃ المصابیح میں ہے: 

"عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لايبیتن رجل عند امرأة ثيب إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم."

(کتاب النکاح، باب النظر الی المخطوبة، ص: 268، ط: قدیمی کتب خانه)

البحر الرائق میں ہے: 

"وبنى عليهأن تعلمها القرآن من المرأة أحب إلي من تعلمها من الأعمى ولهذا قال صلى الله عليه وسلم: "التسبيح للرجال والتصفيق للنساء"  فلا يجوز أن يسمعها الرجل ومشى عليه المصنف في الكافي ..... ويشهد لما قلنا ما في إمداد الفتاح عن خط شيخه العلامة المقدسي ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة."

(كتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ، ج: 1، ص: 470، ط: دارالکتب العلمیة)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"وأما النظر إلى الأجنبيات فنقول: يجوز النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة منهن وذلك الوجه والكف في ظاهر الرواية، كذا في الذخيرة. وإن غلب على ظنه أنه يشتهي فهو حرام، كذا في الينابيع. النظر إلى وجه الأجنبية إذا لم يكن عن شهوة ليس بحرام لكنه مكروه، كذا في السراجية."

(کتاب الکراهية، الباب الثامن فیما یحل للرجل النظر إلیه، ج:5، ص: 406، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101871

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں