بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1448ھ 18 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاقیانو یا مور طلاقا کہنے سے طلاق کا حکم/طلاق کا وہم ہونے سے طلاق کا حکم


سوال

 میں ابھی کچھ مہینے پہلے کراچی سے خیبرپختونخوا پکا شفٹ ہوگیا ہوں، تو ہمارے خیبرپختونخوا میں پٹھان لوگوں کی عادت ہے کہ وہ ہر بات میں گالی کے طور پر دوسرے بندے کو یہ الفاظ استعمال کرتے ہے ”طلاقیانوں“(یعنی طلاقیوں) اور دوسرے الفاظ یہ ہیں ”مور طلاقا “ (یعنی ماں کو طلاق) ،یہ پشتو کے الفاظ ہیں،  میں یہ جملے ہر گز استعمال نہیں کرتا ہوں کیونکہ میں کچھ عرصے سے وہم کا شکار ہوں تو پھر مجھے وہم رہتا ہوگا، لیکن جب میں باہر لوگوں کے ساتھ کام پر جاتا ہوں یا بیٹھتا ہوں، تو جب سارے دن یہ لوگ اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، تو پھر یہ الفاظ وہم کی وجہ سے میرے ذہن میں چلتے رہتے ہیں۔ میں جب کراچی میں تھا، اس میں وقت سے وہم اور وسوسے کا شکار ہوں، اور یہ وہم اور وسوسہ ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے ۔میرا بنیادی مسئلہ اس طرح ہے کہ میں آج لیٹا ہوا تھا، اور میرا بچہ شور کر رہا تھا، تو مجھے غصہ آرہا تھا اور میرے دل میں اس طرح کا وسوسہ یا خیال آیا جو یہ ہے ”مور طلاقا“ ، مجھے یقین ہے کہ میں نے زبان سے کچھ نہیں کہا ہے، لیکن بعد میں دل میں شک پیدا ہوگیا کہ کہیں منہ سے تو نہیں کہا ہو یا ہلکی آواز میں نہیں کہا ہو، تو اب اس شک سے پریشان ہوں، حالانکہ مجھے یقین ہے کہ میں نے زبان سے کچھ نہیں کہا ہے، صرف دل میں وسوسہ آیا کیونکہ مجھے اس طرح کے وسوسے آتے رہتے ہیں۔ کہیں اس دل کے خیال سے میرے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑا ہوگا؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ جب یہ الفاظ جو میں نے اوپر لکھے ہیں گاؤں کے لوگ استعمال کرتے ہیں، تو کیا اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے؟ کیونکہ یہاں کے لوگ دن میں پتہ نہیں کتنے بار اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، کوئی اپنے بچوں کو گالی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، کوئی دوستوں کو استعمال کرتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ صرف دل میں خیال آنے سے یا طلاق کا وہم ہونے سے طلاق واقع نہیں ہوتی،جب تک کہ زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل کو یقین ہے ہے کہ اس نے زبان سے طلاق کے الفاظ نہیں کہےتو صرف وہم اور وسوسے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،اور نہ نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے۔

طلاق کا محل بیوی ہے اور اس کا تعلق بیوی کے ساتھ ہے، ماں یا کسی اور کی طرف طلاق کی نسبت کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے گاؤں کے لوگ جو یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ ”طلاقیانو“ (یعنی طلاقیوں) اور ”مور طلاقا“ (یعنی ماں کو طلاق)، تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی،تاہم یہ الفاظ نامناسب ہیں ،ان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة؛ قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "إن الله تجاوز لأمتي ما حدثت به أنفسها ما لم يتكلموا أو يعملوا به".

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے، جب تک وہ ان پر گفتگو نہ کریں یا ان پر عمل نہ کریں“۔

(كتاب الإيمان، باب تجاوز الله عن حديث النفس والخواطر بالقلب إذا لم تستقر، ج:1، ص:116، ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس".

(کتاب الجہاد، باب المرتد، ج:4، ص:224، ط: ایچ ایم سعید)

وفیه أیضا:

"قوله (لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية وكذا الإشارة نحو هذه طالق وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق".

(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج:3، ص:248، ط: ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801102761

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں