بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو مرتبہ مختلف اوقات میں رجعی طلاق اور عدت کے دوران رجوع کی صورت میں نکاح کا حکم اور باقی ماندہ طلاق کا اختیار


سوال

میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی،ان الفاظ کے ساتھ کہ"میں تمہیں طلاق دیتاہوں"اس کے بعد عدت کے دوران ازدواجی تعلقات قائم ہوگئے تھے،پھر اب تقریبا ڈھائی ماہ پہلے میں نے دوسری طلاق دی ،ان الفاظ کے ساتھ"میں تمہیں طلاق دیتاہوں"اس کے بعد بھی عدت کے دوران ازدواجی تعلقات قائم ہوگئے تھے۔

تو کیا میرا رجوع ہوا ہے یا نہیں؟حالانکہ   میں رجوع نہیں کرنا چاہتاہوں،کیونکہ وہ ڈپرایشن کی مریض ہے،اور اس کی دوائی نہیں کھاتی،جبکہ ڈاکٹر نے بھی یہی کہاہے کہ یہ دوائی استعمال نہیں کرے گی تو یہ ٹھیک نہیں ہوگی۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو ایک مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی تھی کہ"میں تمہیں طلاق دیتاہوں"اور پھر  عدت کے دوران ازدواجی تعلقات قائم کرلئے تھے،تو اس سے رجوع ہوگیا تھا،پھر جب دوبارہ سائل نے اپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ  طلاق دی کہ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"اور پھر عدت کے دوران دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرلئے تھے،تو اس سے بھی رجوع ہوگیا ہے،میاں بیوی کے درمیان نکاح  بدستور قائم ہے،تاہم رجوع کے بعد سائل کےپاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے، لہذا آئندہ احتیاط کرے۔

جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركن الرجعة فهو قول أو فعل يدل على الرجعة: أما القول فنحو أن يقول لها: راجعتك أو رددتك أو رجعتك أو أعدتك أو راجعت امرأتي أو راجعتها أو رددتها أو أعدتها، ونحو ذلك؛ لأن الرجعة رد، وإعادة إلى الحالة الأولى،وأما الفعل الدال على الرجعة فهو أن يجامعها أو يمس شيئا من أعضائها لشهوة أو ينظر إلى فرجها عن شهوة أو يوجد شيء من ذلك ههنا على ما بينا،، ووجه دلالة هذه الأفعال على الرجعة ما ذكرنا فيما تقدم، وهذا عندنا،"

(کتاب الطلاق،الرجعة،فصل فی بیان رکن الرجعة،ج:3،ص:183،ط:دارالکتب العلمیة)

وفیه أیضا:

"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة،"

(کتاب الطلاق،فصل فی بیان حکم  الرجعة،ج:3،ص:180،ط:دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100125

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں