
میری بہن کی طلاق ہوگئی ہے ، اوراس کے دو بچے ہیں ، وہ اب ہمارے ساتھ رہتی ہے ، کیا اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں ؟
واضح رہے کہ زکاۃ ایسے فرد کو دی جاسکتی ہے جو غریب اور ضروت مند ہو ، یعنی اس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد نصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر رقم نہ ہو ، اور نہ ہی اس قدر ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہے اور نہ ہی وہ سید ، ہاشمی ہو تو ایسے فرد کے لیے زکاۃ لینا جائز ہے، اور اس کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن اگر مستحق زکاۃ ہو تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے، بلکہ یہ زیادہ ثواب کا باعث ہے ؛ اس لیے کہ اس میں صلہ رحمی بھی ہے۔ البتہ اگر مذکورہ بہن کے نفقہ کی ذمہ داری سائل پر ہو تو زکاۃ کی رقم نفقہ میں دینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، ایسی صورت میں نفقہ کے علاوہ کسی اور حاجت کے لیے زکاۃ کی رقم دے سکتے ہیں۔
فتح القدیر میں ہے:
"(قوله ولا يدفع المزكي زكاته إلخ) الأصل أن كل من انتسب إلى المزكي بالولاد أو انتسب هو له به لا يجوز صرفها له، فلا يجوز لأبيه وأجداده وجداته من قبل الأب والأم وإن علوا، ولا إلى أولاده وأولادهم وإن سفلوا... وسائر القرابات غير الولاد يجوز الدفع إليهم، وهو أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات، ولو كان بعضهم في عياله ولم يفرض القاضي النفقة له عليه فدفعها إليه ينوي الزكاة جاز عن الزكاة، وإن فرضها عليه فدفعها ينوي الزكاة لا يجوز لأنه أداء واجب في واجب آخر فلا يجوز إلا إذا لم يحتسبها بالنفقة لتحقيق التمليك على الكمال."
(كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، ج: 2، ص: 269، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100792
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن