
میں نے 21 جون 2025ء کو طُہر کی حالت میں ایک طلاقِ بائن دی۔ مطلقہ کی عدّت پوری ہو چکی ہے۔ عدّت کے دوران دوبارہ نکاح نہیں کیا گیا۔ مجھ پر عدّت کے دوران اور اب بھی رجوع (یعنی دوبارہ نکاح) کے لیے بہت زیادہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے، حالانکہ میں رجوع نہیں کرنا چاہتا۔
اب تین باتیں دریافت کرنا مقصود ہیں:
کیا والدِ محترم اور اساتذۂ کرام کا رجوع پر دباؤ ڈالنا درست ہے، جبکہ مجھے اس بات کا یقینی علم ہے کہ میں اب حقوقِ زوجیت بالکل بھی ادا نہیں کر پاؤں گا؟
اگر میں اس صورتِ حال میں ان حضرات کی بات نہ مانوں تو کیا یہ اُن کی نافرمانی شمار ہوگی؟
سورۂ نساء کی آیت 35
﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا ﴾میں جو حکم ہے: "فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا" کیا یہ فرض ہے، واجب ہے یا مستحب؟۱) سائل کو چاہیے کہ وہ حتی المقدور بڑوں (والدین و اساتذہ) کے مشورے کا لحاظ رکھے، لیکن اگر سائل کو یقین ہے کہ آئندہ ازدواجی زندگی گزارنا اس کے لیے دشوار ہے، یا وہ بیوی کے حقوق ادا نہیں کر پائے گا، تو اس صورت میں والدین یا بڑوں کی بات نہ ماننے سے وہ نافرمان شمار نہیں ہوگا، بلکہ اگر اس کو یقین ہے کہ وہ حدودِ اللہ قائم نہیں رکھ سکے گا تو اس کے لیے ان کی بات ماننا جائز ہی نہیں۔
2- آیتِ مذکورہ میں جو حکم دیا گیا ہے "فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا" وہ طلاق سے پہلے کے مرحلے سے متعلق ہے، یعنی جب میاں بیوی میں اختلاف کی صورت پیدا ہو تو اصلاح کے لیے دونوں طرف سے ایک ایک ثالث مقرر کیے جائیں۔
یہ حکم فرض یا واجب کے درجے میں نہیں بلکہ سنت یا مستحب ہے، اور وہ بھی طلاق سے پہلے کے مرحلے میں۔
مسند احمد میں ہے :
" عن علي رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال : لا طاعة لمخلوق في معصية الله عز وجل."
(الجزء الثاني : ج 2 ، ص 333، ط : مؤسسة الرسالة)
ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔"
سنن النسائي میں ہے:
"عن عائشة : "أن فتاة دخلت عليها فقالت: إن أبي زوجني ابن أخيه ليرفع بي خسيسته وأنا كارهة، قالت: اجلسي حتى يأتي النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فأرسل إلى أبيها فدعاه فجعل الأمر إليها. فقالت: يا رسول الله، قد أجزت ما صنع أبي، ولكن أردت أن أعلم أللنساء من الأمر شيء".
(كتاب النكاح،باب البكر يزوجها أبوها وهي كارهة،ج:6،ص:162،ط:دار الرسالة العالمية)
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:ایک لڑکی ان کے پاس داخل ہوئی اور کہا:"بے شک میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے، تاکہ میرے ذریعے اپنی خسیس (پست) حیثیت کو بلند کرے، اور میں (اس نکاح کو) ناپسند کرتی ہوں۔”حضرت عائشہؓ نے فرمایا: "بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ نبی ﷺ تشریف لائیں۔"پس نبی ﷺ آئے، تو انہوں نے آپ کو اس کی خبر دی۔تو آپ ﷺ نے اس کے والد کے پاس (آدمی) بھیجا اور اسے بلایا، پھر نکاح کا اختیار اس (لڑکی) کے سپرد کر دیا۔اس نے کہا:"اے اللہ کے رسول! میں نے وہ منظور کر لیا جو میرے والد نے کیا تھا، لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ عورتوں کو معلوم ہو جائے کہ کیا اُن کے معاملے میں بھی (اختیار) کوئی چیز ہے (یعنی ان کی رضامندی ضروری ہے)۔"
تفسير القرطبي میں ہے:
"وإنما خاطب الله بالإرسال الحكام دون الزوجين. فإن أرسل الزوجان حكمين وحكما نفذ حكمهما،لأن التحكيم عندنا جائز."
(ج:5،ص:178،ط:دار الكتب المصرية)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية."
(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3، ص:441، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100787
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن