
بہشتی زیور میں طلاق سے رجوع کے متعلق لکھا ہے:
”رجعت کرنے یعنی روک رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ یا تو صاف صاف زبان سے کہہ دے کہ ”میں تجھ کو پھر رکھ لیتا ہوں،تجھ کو نہ چھوڑوں گا“، یا یوں کہہ دے کہ ”میں اپنے نکاح میں تجھ کو رجوع کرتا ہوں“، یا عورت سے نہیں کہا، کسی اور سے کہا کہ”میں نے اپنی بیوی کو پھر رکھ لیا اور طلاق سے باز آیا“۔ بس اتنا کہہ دینے سے وہ پھر اس کی بیوی ہو گئی۔“
(بہشتی زیور، حصہ چہارم، باب شانزدہم: 16، عنوان: طلاق میں رجعت کر لینے یعنی روک رکھنے کا بیان، مسئلہ: 2، ص: 314، ط: دارالاشاعت)
”طلاق سے باز آیا“ پرحاشیہ نمبر 5 میں لکھا ہے:
”اگر صرف لفظ ”میں طلاق سے باز آیا“ کہا تو مفیدِ رجعت نہیں، اور اگر لفظ ”اپنی بیوی کو پھر رکھ لیا“کے ساتھ کہا تو رجعت ہو جائے گی۔“
جبکہ فتاویٰ عثمانی میں ایک سوال کے جواب میں رجوع کا طریقہ اس طرح درج ہے کہ:
”طریقہ یہ ہے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں زبان سے یہ کہہ دیں: ”میں نے اپنی بیوی کی طلاق سے رجوع کر لیا“۔“اسی طرح اگلے سوال کے جواب میں ہے:”رجوع کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ دو گواہوں کے سامنے اپنی بیوی سے کہہ دے: ”میں نے تمہاری طلاق سے رجوع کر لیا۔“
(کتاب الطلاق، فصل فی الطلاق الصریح، عنوان: ”میں نے آپ کی بیٹی کو طلاق دی“ اور ”میں انہیں طلاق دیتا ہوں“ الفاظ کا حکم / ”میں تجھے طلاق دیتا ہوں“دو مرتبہ کہنے کا حکم اور رجوع کا بہتر طریقہ، ج: 2، ص: 339-340، ط: مکتبہ معارف القرآن)
ظاہراًتعارض ہے!!!
اب سوال یہ ہے کہ :
”میں طلاق سے رجوع کرتا ہوں“، ”میں نے طلاق سے رجوع کیا“ وغیرہ کے الفاظ سے رجوع ہو جائے گا یا نہیں؟کیا رجوع کے مخصوص الفاظ ہیں، یا عرف کی وجہ سے کسی اور لفظ سے بھی رجوع ہو جاتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں بہشتی زیور اور فتاویٰ عثمانی میں رجوع کے متعلق جو الفاظ منقول ہیں، ان میں کوئی باہمی تعارض نہیں، بلکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
بہشتی زیور میں مذکور جملے:”میں تجھ کو پھر رکھ لیتا ہوں“،”میں اپنے نکاح میں تجھ کو رجوع کرتا ہوں“،”میں نے اپنی بیوی کو پھر رکھ لیا اور طلاق سے باز آیا“اور فتاویٰ عثمانی میں مذکور الفاظ:”میں نے اپنی بیوی کی طلاق سے رجوع کر لیا“،”میں نے تمہاری طلاق سے رجوع کر لیا“یہ سب رجوع کے صریح الفاظ ہیں، جن سے رجوع واقع ہو جاتا ہے۔
البتہ بہشتی زیور کے حاشیہ میں جو یہ مکتوب ہےکہ”اگر صرف کہا کہ: میں طلاق سے باز آیا، تو مفیدِ رجعت نہیں۔“اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جملہ طلاق کے فعل سے باز آنے پر دلالت کرتا ہے،اور دی گئی طلاق کے بارے میں کیا فیصلہ ہے؟ اس پر اس جملہ میں کوئی صراحت نہیں۔
البتہ اگر کوئی کہے”میں نے اپنی بیوی کو پھر رکھ لیا، اور طلاق سے باز آیا۔“تو پہلا جملہ”میں نے اپنی بیوی کو پھر رکھ لیا“ہی رجعت کے معنی پر صریح دلالت کرتا ہے، کیوں کہ لفظ ”پھر“ خود ”واپسی“ اور ”رجوع“ کا مفہوم ادا کر رہا ہے، لہٰذا ایسی صورت میں رجوع واقع ہو جائے گا۔
اسی طرح اگر طلاق دینے کے بعد کوئی شخص کہے: ”میں طلاق سے رجوع کرتا ہوں“ یا ”میں نے طلاق سے رجوع کیا“ تو ان الفاظ سے بھی رجوع ہو جاتا ہے، کیونکہ ان میں صاف طور پر یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ شوہر دی گئی طلاق سے رجوع کر رہا ہے، اور یہ الفاظ رجوع پر صریح دلالت کرتے ہیں۔
اور اصولی طور پر قولی رجوع ہر ایسی بات سے ہو جاتا ہے جو رجوع پر صریح دلالت کرے،اگر الفاظ صریح نہ ہوں، بلکہ ان میں دوسرے معنی کے ساتھ ساتھ رجوع کا احتمال بھی ہو، تو ایسی صورت میں کسی بھی محتمل مفہوم کو ترجیح دینے کے لیےنیت کا اعتبار ہوگا۔
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"اتفق الفقهاء على أن الرجعة تصح بالقول الدال على ذلك، كأن يقول لمطلقته وهي في العدة راجعتك، أو ارتجعتك، أو رددتك لعصمتيوهكذا كل لفظ يؤدي هذا المعنى.
قال العيني من الحنفية ما نصه: " والرجعة أن يقول للتي طلقها طلقة، أو طلقتين: راجعتك بالخطاب لها، أو راجعت امرأتي بالغيبة، وهذاصريح في الرجعة، وكذا إذا قال: رددتك أو أمسكتك ".
وقسم الفقهاء الألفاظ التي تصح بها الرجعة إلى قسمين:
القسم الأول: اللفظ الصريح مثل راجعتك وارتجعتك إلى نكاحي، وهذا القسم تصح به الرجعة ولا يحتاج إلى نية.
القسم الثاني: الكناية: وهي الألفاظ التي تحتمل معنى الرجعة ومعنى آخر غيرها، كأن يقول: أنت عندي كما كنت، أو أنت امرأتي ونوى به الرجعة.
فألفاظ الكناية تحتمل الرجعة وغيرها مثل أنت عندي كما كنت، فإنها تحتمل كما كنت زوجة، وكما كنت مكروهة، ولذلك قال الفقهاء: إنها تحتاج إلى نية ويسأل عنها."
(حرف الراء، رجعة، كيفية الرجوع، ج: 22، ص: 109، ط: دار السلاسل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101236
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن