بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق رجعی کے بعد رجوع کرنے سے کتنی طلاقوں کا اختیار باقی رہتا ہے؟


سوال

ایک شخص مثلاً زید نے اپنی بیوی سے اردو زبان میں کہا”میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں“، پھر عدت کے دوران اپنی بیوی سے رجوع کیا، اب رجوع کرنے سے سابقہ طلاق ختم ہو گئی اور شوہر کے پاس تین طلاقوں کا اختیار ہے یا رجوع کرنے سے وہ طلاق ختم نہیں ہوئی بلکہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے؟

اسی طرح مذکورہ شخص(جس نے پہلے اپنی بیوی کو ایک طلاق دے کر رجوع کر لیا تھا) دوبارہ دس مہینے کے بعد اپنی بیوی سے کہا”میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں“ اور اب وہ رجوع کرنا چاہتا ہے تو کیا رجوع کرنے سے رجوع ہو جائے گا یا دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دے کر عدت کے دوران رجوع کرلے تو رجوع کرنے سے دی گئی طلاق کالعدم نہیں ہوتی، بلکہ آئندہ کے لیے اس کے پاس باقی دو طلاقوں کا اختیار رہ جاتا ہے۔

اور اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دے کر عدت کے دوران رجوع کرلےاور  پھر کچھ مدت کے بعد بیوی کو دوسری طلاق رجعی دے دے اور اس کے بعد وہ رجوع کرنا چاہے تو عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے، عدت کے دوران رجوع کرلینے کی صورت میں دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی، البتہ تیسری طلاق دینے کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں ہوگی۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله ويهدم الزوج الثاني ما دون الثلاث) حتى لو طلقها واحدة، وانقضت عدتها، وتزوجت بآخر وطلقها، وانقضت عدتها منه ثم تزوجها الأول يملك عليها ثلاثا إن كانت حرة، وثنتين إن كانت أمة، ولا يتحقق في الأمة إلا هدم طلقة واحدة، وعند محمد يملك عليها ثنتين في الحرة، وواحدة في الأمة وعند محمد يملك عليها ثنتين في الحرة، وواحدة في الأمة ومراده إن دخل بها، ولو لم يدخل بها لا يهدم اتفاقا كما في القنية."

(کتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل فیما تحل به المطلقة، ج:4، ص:63، ط:دار الکتاب الإسلامي)

الموسوعۃ الفقہیة الکویتیة میں ہے:

"الشرط الأول: أن تكون الرجعة بعد طلاق رجعي سواء صدر من الزوج أو من القاضي؛ لأنها استئناف للحياة الزوجية التي قطعت بالطلاق، فلولا وقوعه لما كان للرجعة فائدة، فإذا طلق الرجل امرأته الطلقة الثالثة فليس له حق مراجعتها، إذ بالطلقة الثالثة تبين المرأة من زوجها بينونة كبرى ولا يحل له مراجعتها حتى تتزوج آخر. قال تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}. والفقهاء جميعا متفقون على هذا الشرط ولم يخالف فيه أحد منهم."

(رجعة، شروط الرجعة، ج:22، ص:107، ط:دار السلاسل)

وفیه أیضاً:

"قال العيني من الحنفية ما نصه: " والرجعة أن يقول للتي طلقها طلقة، أو طلقتين: راجعتك بالخطاب لها، أو راجعت امرأتي بالغيبة."

(رجعة، کیفیة الرجعة، ج:22، ص:109، ط:دار السلاسل)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100254

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں