بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1448ھ 28 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق قبل الدخول کی صورت میں مہر اور تحائف کا حکم


سوال

 میرے بیٹے کا کچھ عرصے قبل نکاح ہوا، دسمبر کے مہینے میں رخصتی ہونی تھی، لڑکے اور لڑکی نکاح  کے بعد آپس میں میسج پر گفتگو کرتے تھے، دونوں میں بعض نامناسب باتیں ہوئیں اور لڑکی نے لڑکے کے گھر والوں کو برا بھلا کہا اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اب میرا بیٹا اس لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھنا چاہتا اور طلاق دینے کا ارادہ ہے، دونوں میں کوئی خلوت صحیحہ یا  ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا، صرف نکاح ہوا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر میرا بیٹا اس لڑکی کو طلاق دے تو اس صورت میں مہر کا کیا حکم ہوگا؟ مہر نکاح میں ایک لاکھ روپے مقرر ہوا تھا، اسی طرح منگنی وغیرہ کے موقع پر جو تحفے اور سونا لڑکی کو دیا تھا اس کا کیا حکم ہے؟ وہ واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر نکاح کے موقع پر ایک لاکھ روپے مہر مقرر ہوا تھا اور دونوں کی تنہائی میں کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور اب لڑکا طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دینے کی صورت میں جو مہر مقرر ہوا تھا اس کا نصف  یعنی: پچاس ہزار روپے ادا کرنا لازم ہو گا،باقی جو سونا منگنی کے موقع پر لڑکی کو  دیا تھا اس سونے کے  بارے  میں یہ تفصیل ہے کہ اگرلڑکے  والوں نے صراحت کی تھی  کہ یہ صرف استعمال کے لیے ہے ،تو پھر یہ لڑکے والوں  کی ملکیت  ہو گا، اور اگرلڑکے والوں نے ہبہ (گفٹ) اور  مالک بناکر دینے  کی صراحت         کردی تھی  تو پھر اس  سونے  کی مالک  لڑکی ہوگی، اور اگر کوئی صراحت  نہیں  کی تھی تو پھر  شوہر کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا،اگر بطورِ ملک دینے کا عرف ہے تو لڑکی مالک ہوگی،   اور اگر  بطورِ عاریت دینے کا رواج ہے تو پھرلڑکے والے ہی مالک ہوں گے،لیکن اگر  شوہر  کے خاندان کا کوئی  عرف اور واضح رواج   نہ ہو تو پھرظاہر کا اعتبار  کرتے  ہوئے یہ سونا  تحفہ سمجھا جائے گا، اور یہ لڑکی کی  ملکیت   ہوں گے،زبردستی واپس لینا جائز نہیں ہو گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة)

(قوله ويجب نصفه) أي نصف المهر المذكور، وهو العشرة إن سماها أو دونها أو الأكثر منها إن سماه، والمتبادر التسمية وقت العقد، فخرج ما فرض أو زيد بعد العقد فإنه لا ينصف كالمتعة كما سيأتي."

(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:104، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك."

( كتاب النكاح،الفصل السادس عشر فی جھاز البنت،ج:1،ص:327،ط:رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا."

(کتاب النکاح،باب المهر، ج:3، ص:153، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101116

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں