
لڑکے نے لڑکی کو طلاق دے دی اور طلاق کے کاغذات میں بے بنیاد الزامات نہ صرف لڑکی پر لگائے بلکہ اس کے گھر والوں پر بھی بیہودہ قسم کے الزامات لگائے، جس کی طلاق کے كاغذات میں کوئی ضرورت نہیں تھی اور یہ تمام باتیں صرف لڑکی اور اس کے گھر والوں پر کیچڑ اچھالنے کے لیے کی گئی ہیں۔
کیا یہ تمام باتیں شرعی لحاظ سے درست ہیں اور لڑکے ،اس کے گھر والے اور وہ تمام لوگ جو گواه کے طور پر اس کے ساتھ کھڑے ہیں یا اس طلاق نامے پر گواہ کے طور پہ دستخط کر رہے ہیں، ان کو الله کے ہاں اس بات کی جواب دہی کرنی پڑے گی؟
اور جو لوگ بیچ میں بیٹھائے گئے اور اس بات پر خاموش ہیں ،ان سب کے لیے اللہ کے ہاں کیا معاملات ہوں گے ؟
واضح رہے کہ کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانا شرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر طلاق نامہ میں بیوی یا اس کے اہلِ خانہ پر ایسے الزامات درج کیے گئے ہوں، جو حقیقت پر مبنی نہ ہوں یا جنہیں بلا ضرورت محض بدنام کرنے، عزت مجروح کرنے اور کیچڑ اچھالنے کے لیے تحریر کیا گیا ہو، تو یہ شرعاً ناجائز اور سخت گناہ ہے۔ مسلمان کی عزت و آبرو کی حفاظت شریعت میں نہایت اہم ہے، لہٰذا کسی پر جھوٹا الزام لگانایابہتان باندھنا حرام ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت مؤاخذہ ہوگا۔
اگر طلاق واقع ہوچکی ہو، تو اس کے ثبوت کے لیے طلاق نامہ میں صرف اتنی بات لکھنا کافی ہے جس سے طلاق کا وقوع ثابت ہوجائے، اس میں غیر متعلقہ الزامات اور کردار کشی پر مبنی عبارات شامل کرنا شرعاً درست نہیں۔
اسی طرح جو لوگ جانتے ہوں کہ طلاق نامہ میں درج الزامات جھوٹے یا بے بنیاد ہیں، پھر بھی ان کی تائید کریں یا ان پر بطورِ گواہ دستخط کریں، وہ بھی جھوٹ اور باطل کی اعانت کے گناہ میں شریک ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ البتہ اگر گواہوں کے دستخط صرف طلاق کے وقوع کی گواہی کے لیے ہوں، نہ کہ ان الزامات کی تصدیق کے لیے، اور وہ ان الزامات کی حقیقت سے واقف نہ ہوں، تو ان پر کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔
رہے وہ لوگ جو اس معاملہ میں صلح کرانے یا ثالثی کے لیے بیٹھے تھے، تو اگر ان کے لیے جھوٹ اور ظلم واضح تھا اور وہ اس کی اصلاح یا روک تھام پر قدرت رکھنے کے باوجود بلا عذر خاموش رہے، تو وہ بھی اپنی کوتاہی کے بقدر عند اللہ جواب دہ ہوں گے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (2) "
ترجمہ:”اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور الله تعالیٰ سے ڈرا کرو بلاشبہ الله تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں ۔“ـ(از بیان القرآن)
"وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَاناً وَإِثْماً مُبِيناً (58) "
ترجمہ:”اور جو لوگ ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بار لیتے ہیں ۔ “(از بیان القرآن)
تفسير قرطبي میں ہے:
"[سورة الأحزاب (33): آية 58]
والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانا وإثما مبينا (58)
أذية المؤمنين والمؤمنات هي أيضا بالأفعال والأقوال القبيحة، كالبهتان والتكذيب الفاحش المختلق. وهذه الآية نظير الآية التي في النساء:" ومن يكسب خطيئة أو إثما ثم يرم به بريئا فقد احتمل بهتانا وإثما مبينا"
(سورة الاحزاب، ج:14، ص:240، ط:دار الكتب المصرية)
وفیه أيضاً:
"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " المسلم من سلم الناس من لسانه ويده، والمؤمن من أمنه الناس على دمائهم وأموالهم۔"
ترجمہ:”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں، اور مؤمن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے بارے میں بے خوف اور مطمئن رہیں۔“
(مسند عبد الله بن عمر بن عاص، ج:14، ص:499، ط:مؤسسةالرسالة)
مسند أبي داود الطيالسي میں ہے:
"قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: من رأى منكم منكرا فلينكره بيده، فمن لم يستطع فلينكره بلسانه، فمن لم يستطع فلينكره بقلبه، وذاك أضعف الإيمان."
ترجمہ: بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے (اس کی برائی بیان کرکے) روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔“
(الافراد عن ابي سعيد، ج:3، ص:649، ط:دار هجر)
كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال میں ہے:
"عن علي قال: البهتان على البراء أثقل من السموات. الحكيم."
ترجمہ:”حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے،( یعنی بہت بڑا گناہ ہے)۔“
(الكتاب الثالث في الاخلاق، الباب الثاني،الاخلاق المذمومة، ج:3، ص:802، ط:مؤسسة الرسالة)
سنن أبي داؤد میں ہے:
"عن يحيى بن راشد، قال: جلسنا لعبد الله بن عمر، فخرج إلينا فجلس، فقال: سمعت رسول الل -صلى الله عليه وسلم- يقول: "من حالت شفاعته دون حد من حدود الله، فقد ضاد الله، ومن خاصم في باطل وهو يعلمه، لم يزل في سخط الله حتى ينزع، ومن قال في مؤمن ما ليس فيه، أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال"
ترجمہ: ”یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر ؓ کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہوجائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کرلے ۔“
(كتاب الأقضية، باب فيمن يعين على خصومة من غير أن يعلم أمرها، ج:5، ص:450، ط: دار الرسالة العالمية)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"لقوله عليه الصلاة والسلام «انصر أخاك ظالما أو مظلوما» يعني إذا كان ظالما تمنعه من الظلم، وإذا كان مظلوما تمنع الظلم عنه."
(كتاب الجنايات، ج:6، ص:110، ط:دار الكتاب الاسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100169
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن