
میں نے اپنی بیوی کو ڈرانے دھمکانے کےلیے طلاق نامہ بنوایا،کیوں کہ وہ گھر نہیں آرہی تھی، میں نے طلاق نامہ بنوانے والے شخص کو صرف یہ کہا،کہ مجھے طلاق نامہ بنادو،تو اس نے مجھے طلاق نامہ بنادیا،لیکن اس طلاق نامہ پر میں نےدستخط نہیں کئے،اور مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ اس میں کتنی طلاقیں لکھی گئی ہیں،بس اس نے خود اپنی طرف سے اس میں تین طلاقیں لکھی ہیں ،میں نےاس طلاق نامہ کو نہیں پڑھا اور نہ مجھے پڑھ کر سنایاگیا ۔
کیا اس سے میری بیوی کوئی طلاق واقع ہو گئی؟ اگر ہوئی تو کتنی ہوئیں؟ اس کے بعد ہم نے رجوع بھی کرلیا تھا۔
وضاحت:سائل سے زبانی معلوم کیا تو انہوں نے کہا،کہ میں نے صرف ڈرانے کی عرض سے وکیل سے طلاق نامہ بنانے کا کہا،میں نے یہ طلاق نامہ نہیں پڑھا،نہ دستخط کئے ہیں ،نہ میں نے وکیل سے کہاتھا کہ تین طلاقوں کا طلاق نامہ بناؤاور میں نے زبانی بھی کوئی طلاق نہیں دی ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان حقیقت پر مبنی ہے کہ اُس نے صرف بیوی کو ڈرانے اور دھمکانے کی غرض سے وکیل کو طلاق نامہ تیار کرنے کا کہا تھا، اور اس نے طلاق کی کوئی تعداد ذکر نہیں کی تھی، نہ ہی اسے یہ علم تھا کہ طلاق نامے میں تین طلاقیں لکھی گئی ہیں، جبکہ طلاق نامہ تیار کرنے والے شخص نے اپنی طرف سے تین طلاقوں پر مشتمل تحریر لکھ دی، اور سائل نے اس پر دستخط نہیں کیے، نہ اسے پڑھا اور نہ ہی اسے پڑھ کر سنایا گیا، تو اس صورت میں محض طلاق نامہ بنانے کے لیے کہنے کی وجہ سے سائل کی بیوی پرایک طلاق رجعی واقع ہوگی تھی ،اگرعدت (تین ماہ واریاں اگرحمل نہ ہو، حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش سے قبل )کے اندر رجوع کرلیا تھا تو نکاح برقرار ہے، البتہ آئندہ کےلیے سائل کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ."
(كتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة ج:3، ص:246، ط:سعيد)
و فيه أيضاً:
"ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب."
(كتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة ، ج:3، ص:246، ط:سعيد )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101617
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن