بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق نامہ بننے کا علم نہ ہو تو طلاق کا حکم


سوال

ہم میاں بیوی میں گھریلو جھگڑے ہوتے تھے، جس کی بنا پر میری بیوی نے تیزاب بھی پیااور اس کے بعد وہ میرے دس ماہ کے بچے کو لے کر میکے چلی گئی، اور میکے جانے کے بعد میری بیوی  نے کئی بار خلع کا مطالبہ بھی کیا، لیکن میں نے قبول کرنے سے انکار کردیا،اور میری بیوی میرے گھر آنے پر بھی آمادہ نہیں تھی، اس لیے ایک دن میں وکیل کے پاس گیا، میں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسے پیپر بنا کر دو جس کی بنیاد پر میں بچے کو اپنی تحویل میں لے سکوں۔ اس دوران وکیل نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ طلاق دے دو، مگر میں نے انکار کردیاکہ میں طلاق نہیں دوں گا۔پھر وکیل کی میری بیوی کے تایا کے ساتھ فون پر بات ہوئی کہ آپ لڑکی کو سامنے لائیں تاکہ یہاں بیٹھ کر مسئلہ حل کرسکیں، لیکن تایا نے آگے سے انکار کردیااور کہا کہ بچہ بھی ہمیں نہیں چاہییے، بچوں کو بھی وہ لے جائے، اس دوران وکیل نے کہا کہ آجاؤ، بس اپنا پیپر لے جاؤ، لڑکا نہ دستخط کرے گا اور نہ ہی تین الفاظ بولنے پر راضی ہے، پھر اسی دوران لڑکے کے چچا صلاح الدین اورلڑکی کے کزن وقاص سامنے بیٹھے ہوئے تھےتو وکیل نے ان کو وہ پرچہ دے دیا۔ اس کے بعد میری ساس کے ساتھ بات ہوئی تو اس نے کہا کہ آپ نے تین طلاق والا پیپر لکھوایا ہے، میں نے کہا کہ میں نے تو بچے کی کسٹڈی کے حوالے سے پیپر بنوائے تھے، نہ  میں نے طلاق نامہ کا وکیل کو کہا تھا، نہ میں نے کاغذ پڑھا تھا، نہ میں نے دستخظ کیے تھے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح وکیل کے از خود تین طلاق والے طلاق نامہ کے بنانے سے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟ جب کہ میں نے نہ وکیل کو طلاق نامہ لکھنے کا کہا تھا اور نہ میں نے پڑھا اور نہ میں نے دستخط کیےتھے بلکہ اسی مجلس میں وکیل نے مجھ سے پڑھوائے بغیر ہی یہ پرچہ اس کے چچا اور کزن کو دےد یا تھا۔

جواب

واضح رہے کہ طلاق ،میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کا آخری حل ہے،ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کی غلطیوں سے  درگزر کرنا چاہییے،پھر بھی اگر نباہ مشکل ہو رہا ہو تو شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے دونوں جانب سے، لڑکے اور لڑکی کے خاندان سے کسی ذی شعور، معاملہ فہم لوگوں کو درمیان میں ڈال کر معاملا ت کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔شوہر کا بے جا طلاق دینا یا بیوی کا بے جا طلاق کا مطالبہ کرنا شرعا ناجائز ہے، البتہ اگر کسی صورت نباہ ممکن نہ ہو اور دونوں نباہ چاہتے بھی نہ ہوں، پھر اس کےبعد شوہر کابیوی کو لٹکائے رکھنا، نہ اپنے ساتھ رکھنا اور نہ طلاق یا خلع  دینا، یہ بھی درست نہیں ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل کا واقعۃ اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا، اس کے علم میں  یہ بات نہیں تھی کہ تیار کیے گئے کاغذات میں طلاق کا ذکر ہے، نہ ہی اس نے وکیل کو طلاق کے کاغذات بنوانے کا حکم دیا تھا، اور بچے کی کسٹدی کے کاغذات بنوانے سے مراد بھی طلاق کے کاغذات نہیں تھے تو اس صورت میں سائل کی بیوی پر شرعا کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، سائل کی اہلیہ بدستور سائل کے نکاح میں ہے۔

سنن أبی داؤد میں ہے:

"عن ابن عمر رضي اللہ عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أبغض ‌الحلال إلى الله تعالى الطلاق."

(کتاب الطلاق، باب في كراهية الطلاق، ج: 2، ص: 255، ط: المكتبة العصرية)

ترجمہ: "حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ تعالی کے یہاں حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔"

رد المحتار میں ہے:

"ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ."

(كتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة، ج: 3، ص: 246، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101542

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں