بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد والد کو بیٹی سے نہ ملنے دینے کا حکم


سوال

میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاقِ رجعی دی تھی، آٹھ سال سے ہم الگ الگ رہ رہے ہیں، کوئی رجوع وغیرہ نہیں ہوا، اس سے میری ایک گیارہ سال کی بچی ہے، لیکن وہ مجھے اس سے کسی بھی طرح ملنے نہیں دے رہی، کیا اس وجہ سے وہ گناہ گار ہے؟

جواب

واضح رہے کہ والدین میں علیحدگی کی صورت میں بچی کی عمر نو سال  ہونے تک پرورش کا حق  ماں کو حاصل ہوتا ہے،اس کے بعد   بچی کی تربیت کا حق شریعت نے والد  کو دیا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر چاہے تو اپنی بچی کو اپنی تربیت میں رکھ سکتا ہے، اور اگر بچی کی ماں کے پاس رہنے کی اجازت دینا چاہے تو بھی دے سکتا ہے، تاہم والدین میں سے کسی کو بھی بچی سے ملاقات سے روکنے کا حق کسی کو نہیں، ایسا کرنا شرعاً ناجائز ہے،جس کی وجہ سے روکنے والا گناہ گار ہو گا، اس لیے باہمی رضامندی سے بچی سے ملاقات کی کوئی معقول ترتیب بنا سکتے ہیں۔

فتاوٰی شامی  میں ہے:

"و الحاضنة أما أو غیرهاأحق به أي بالغلام حتی یستغني عن النساء وقدر بسبع، وبه یفتیٰ؛ لأنه الغالب ... (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية ...(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى ۔۔۔(قوله: أي تبلغ) وبلوغها إما بالحيض، أو الإنزال، أو السن ط. قال في البحر: لأنها بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر، وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ، والأب فيه أقوى وأهدى."

(كتاب الطلاق، باب الخضانة،ج: 3،ص:566، ط: سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"‌ الولد ‌متى ‌كان ‌عند ‌أحد ‌الأبوين ‌لا ‌يمنع ‌الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي ."

(کتاب الطلاق،الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:543، ط:رشیدیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الحاوي: له إخراجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها كل يوم كما في جانبها فليحفظ.

قلت: وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الأم وأخذه الأب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك.

ويؤيده ‌ما ‌في ‌التتارخانية: ‌الولد ‌متى ‌كان ‌عند ‌أحد ‌الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم. (قوله: لا يجبر على أن يرسله) وكذا يقال في جانبها وقت حضانتها ط".

(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:571، ط:سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية".

وفي الرد:

"(قوله: ولا خيار للولد عندنا) أي إذا بلغ السن الذي ينزع من الأم يأخذه الأب، ولا خيار للصغير لأنه لقصور عقله يختار من عنده اللعب، وقد صح أن الصحابة لم يخيروا. وأما حديث «أنه صلى الله عليه وسلم خير فلكونه قال: اللهم اهده» فوفق لا اختيارا لا نظر بدعائه عليه الصلاة والسلام، وتمامه في الفتح".

(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:568، ط:سعيد)

الفقہ الاسلامی وأدلتہ میں ہے:

"قال الحنفية : إذا كان الولد عند الحاضنة، فلأبيه حق رؤيته، بأن تخرج الصغير إلى مكان يمكن الأب أن يراه فيه كل يوم. وإذا كان الولد عند أبيه لسقوط حق الأم في الحضانة، أو لانتهاء مدة الحضانة، فلأمه رؤيته، بأن يخرجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها، كل يوم. والحد الأقصى كل أسبوع مرة كحق المرأة في زيارة أبويها."

(زیارۃالولد،ج:10،  ص:7320، ط: دارالفکر  دمشق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102158

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں