بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد بیٹی کو اس کے والد کے ساتھ نہ ملنے دینے کا حکم


سوال

 میاں اور بیوی کے درمیان ڈھائی سال سے جدائی ہوگئی ہے ،دونوں کی ایک ہی بچی ہے جو ماں کے پاس ہے،البتہ جدائی کے بعد سے دو سال سے زیادہ عرصہ والد کو اپنی بچی سے ملنے نہیں دیا، حال ہی میں دو ملاقاتیں بچی سے کروائی گئیں، لیکن صرف پانچ اور دس منٹ کے لئے گاڑی میں باہر سڑک پر، اس کے بعد باپ نے یہ مطالبہ کیا کہ ایسی مناسب جگہ ملاقات کا اہتمام ہو جہاں بچی اور اس کے باپ کو وحشت نہ ہو ۔ 

اب سوال یہ ہے کہ بچی کی  ماں کا یہ رویہ اختیار کرنا گھبراہٹ وغیرہ کا بہانہ کر کے والد کو اپنی بچی سے ملنے نہ دینا شریعت کی  نظر سے کیا حکم ہے ؟اور والد اپنی بچی سے کتنے عرصہ بعد  مل سکتا ہے؟

 اور  والد اپنی بچی کے ساتھ کہاں مل سکتا ہے؟سابقہ اہلیہ کے گھر پر؟یا اپنے گھر میں؟یا کسی اور جگہ؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد کسی ایک کا دوسرے کو بچوں سے  ملاقات کروانے سے روکنا شرعاً ناجائز ہے۔

1۔لہذا صورتِ بچی کی والدہ کا کسی بھی بہانے سے والد کو اس کی بچی سے نہ ملنے دینا شرعاً درست نہیں ہے،اسے چاہے کہ  بچی کا والد جب  اسے ملنا چاہے اسے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

2۔بچی کا والد جب بھی چاہے اپنی بیٹی سے مل سکتا ہےاور بچی کی والدہ پر لازم ہے کہ وہ   ہر ہفتے میں  ایک مرتبہ تو بچی کی اپنی والد کے ساتھ  ضرور  ملاقات کروائے۔

3۔ اور بچی کا والد کسی بھی مناسب جگہ پر اس کے ساتھ ملاقات کر سکتاہے۔

نیز یہ بات بھی واضح  رہے کہ بچی کی عمر جب نو سال ہو جائے گی تو اس کی پرورش کا حق والدہ سے ختم ہو جائے گا،پھر اس کی پرورش کا حق والد کے پاس ہو گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لايمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده، كذا في التتارخانية ناقلاً عن الحاوي."

(باب الحضانة، ج:1، ص:543، ط:رشیدیہ)

الفقہ الاسلامی وأدلتہ میں ہے:

"قال الحنفية : إذا كان الولد عند الحاضنة، فلأبيه حق رؤيته، بأن تخرج الصغير إلى مكان يمكن الأب أن يراه فيه كل يوم. وإذا كان الولد عند أبيه لسقوط حق الأم في الحضانة، أو لانتهاء مدة الحضانة، فلأمه رؤيته، بأن يخرجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها، كل يوم. والحد الأقصى كل أسبوع مرة كحق المرأة في زيارة أبويها."

(زیارۃالولد،ج:10،  ص:7320، ط: دارالفکر  دمشق)

فتاوٰی شامی  میں ہے:

"و الحاضنة أما أو غیرهاأحق به أي بالغلام حتی یستغني عن النساء وقدر بسبع، وبه یفتیٰ؛ لأنه الغالب ... (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية ...(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى ۔۔۔(قوله: أي تبلغ) وبلوغها إما بالحيض، أو الإنزال، أو السن ط. قال في البحر: لأنها بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر، وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ، والأب فيه أقوى وأهدى."

(كتاب الطلاق، باب الخضانة،ج: 3،ص:566، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں