
شوہر نے بیوی سے کہا "اگر تم نے فلاں سے بات کی تو تمہیں طلاق ہے" اور بیوی نے ابھی تک بات نہیں کی، تو کیا شوہر اپنے الفاظ واپس لے سکتا ہے؟ اور کیا شوہر کا اس طرح کہنا درست ہے؟
واضح رہے کہ ایک مرتبہ طلاق کو کسی کام یا فعل کے ساتھ مطلقاً معلق کردینے کے بعد اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں طلاق کو بیوی کے کسی شخص کے ساتھ بات کرنے پر معلق کرنے کے بعد شوہر اپنے الفاظ کو واپس نہیں لے سکتا، جب بھی بیوی مذکورہ شخص سے بات کرے گی، اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی، اس کے بعد شوہر عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے، بہتر یہ ہے کہ اپنے رجوع پر دو افراد کو گواہ بنالیا جائے، بایں طور کہ ان کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا ہے، اسکے بعد آئندہ کے لیے شوہر کو صرف دو طلاق کا اختیار ہوگا، نیز ایک مرتبہ طلاق واقع ہوجانے کے بعد معلق طلاق ختم ہوجائے گی، اس کے بعد مذکورہ آدمی سے بات کرنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
طلاق دینا شریعت میں کوئی پسندیدہ امر نہیں ہے، وقتی غصہ اور جذبات سے مغلوب ہو کر بیوی کو طلاق کی دھمکی دینا یا معلق طلاق دینا مناسب طرز عمل یا بہتر رویہ نہیں، عموما ایسے امور بعد میں پچھتاوے کا باعث ہوا کرتے ہیں، بہتر ہے کہ باہمی معاملات کو دھیمے انداز میں مناسب تنبیہ کے ساتھ حل کیا جائے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق."
(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج: 3، ص: 126، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."
(الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: 1، ص: 420، ط: دار الفكر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101761
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن