بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کو دخول دوکان پرمعلق کرنے کا حکم


سوال

ہماراایک ہوٹل ہے۔ خرچ کے معاملے پر میری اپنے بھائی سے تکرار (منہ ماری) ہوگئی، جس کے نتیجے میں  میں نےغصے کی حالت میں پشتو میں یہ الفاظ کہے:

"زہ بہ آئندہ دہ دے ہوٹل پر فٹ پاتھ (قدم نہ ایژدم)نہ خیژم او نہ بہ دہ خرچ پہ بارہ کی تاسرہ بیا خبری کوم، کہ می چیری پر فٹ پاتھ قدم کیشودی یا می دہ خرچ متعلق ستا سرہ خبری وہ کیے نو زما پر خزہ درے طلاق۔"

ترجمہ یہ ہے:

کہ آئندہ نہ میں اس ہوٹل کے فٹ پاتھ پر قدم رکھوں گا اور نہ ہی خرچ کے بارے میں بات کروں گا، اگر میں نے فٹ پاتھ پر قدم رکھا یا خرچ کے بارے میں بات کی تو میری بیوی پر تین طلاق ہوں گی۔

نوٹ: اس ہوٹل کا انچارج وہ بھائی نہیں بلکہ دوسرا بھائی ہے۔

1. اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے بیٹے اس ہوٹل میں کام کرسکتے ہیں یا نہیں؟اورکرنےکی صورت میں اگرمیرے بچے  مجھے خرچ دیں تو کیا اس سے مجھ پرطلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

2. اس ہوٹل کی مزید تین برانچیں ہیں،کیا میں ان برانچوں میں جا سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے طلاق کو دو شرطوں کے ساتھ معلق کیا ہے،ایک متعین ہوٹل کے فٹ پاتھ پر قدم نہ رکھنے کے ساتھ، اور دوسری خرچ کے متعلق بات نہ کرنے کے ساتھ۔جب تک سائل خود ان دونوں کاموں میں سے کوئی ایک کا بھی انجام نہیں کردیتا، یعنی نہ متعین ہوٹل  کے فٹ پاتھ پر قدم رکھے اور نہ خرچ کے بارے میں بات کرے، تو  اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی؛ کیونکہ وقوعِ طلاق کی شرط (یعنی قدم رکھنا یا خرچ کے متعلق بات کرنا) متحقق نہیں ہوئی۔باقی سائل کے بیٹوں کے لیے اس ہوٹل میں کام کرنے اور اس کی آمدنی میں سے اپنے والد کو خرچ دینے میں کوئی حرج نہیں، ایسا کرنے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی؛ کیونکہ بیٹوں کا طلاق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح سائل اس مخصوص برانچ کے علاوہ ہوٹل کی دوسری برانچوں میں بھی جا سکتا ہے؛ کیونکہ سائل نے طلاق کو ایک متعین برانچ کے فٹ پاتھ پر قدم رکھنے کے ساتھ  طلاق کو معلق کیا ہے۔پس صورتِ مسئولہ میں اگر سائل بعینہٖ اسی ہوٹل کی اسی برانچ کے فٹ پاتھ پر قدم رکھے گا تو طلاق واقع ہوگی،ورنہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔

تین  معلق طلاق  سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے دے، اور جب عدت مکمل ہو جائے ،تو پھر مذکورہ  ہوٹل چلے جائے،  اور  خرچ  کے بارے میں بات بھی کرلے، ایسا کرنے سے یمین پوری ہو جائے گی، اور نکاح قائم نہ ہونے کی وجہ سے معلق طلاقیں واقع نہیں  ہوں گی، اس کے بعد سائل اپنی مطلقہ بیوی سے نیا مہر مقرر کرکے تجدید نکاح کرلے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها"

(کتاب الطلاق،مطلب في اختلاف الزوجين في وجود الشرط ج:3،ص:355،ط:ایچ ایم سعید)

وفیہ ایضا:

"‌ففي ‌البحر: ‌أنت ‌طالق بدخول الدار أو بحيضتك لم تطلق حتى تدخل أو تحيض لأن الباء للوصل والإلصاق وإنما يتصل الطلاق ويلصق بالدخول إذا تعلق به"

(کتاب الطلاق،مطلب في ألفاظ الشرط،ج:3،ص:352،ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"ولو قال أنت طالق ثلاثا من هذا العمل طلقت ثلاثا ولا يصدق قضاء أنه لو لم ينو الطلاق كذا في الاختيار شرح المختار"

(کتاب الطلاق، الفصل الأول فی الطلاق الصریح، ج: 1، ص: 356، ط: دار الفکر بیروت)

ھدایۃ میں ہے:

"وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا۔"

(کتاب الطلاق،‌‌ باب الأيمان في الطلاق، ج: 3، ص: 196، ط: مکتبة البشری)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102246

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں