
کچھ عرصہ پہلے میری طلاق ہونے والی تھی، لیکن معلوم ہوا کہ میں حمل سے ہوں، میرے شوہر چوں کہ شراب نوشی کرتے ہیں، مارپیٹ بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے میں ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور طلاق صرف حمل کی وجہ سے رکی ہوئی ہے، میڈیکلی طور پر حمل کے چھ ہفتے ہوچکے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ میں یہ حمل ساقط کرسکتی ہوں؟
واضح رہے کہ حمل کی مدت اگر چارماہ سے زائد ہوچکی ہو، تو کسی صورت میں بھی حمل گرانا جائز نہیں ہے اور اگر چار ماہ سے کم ہے، تو بھی بغیر عذر کے حمل گرانا درست نہیں ہے،لیکن اگر کوئی عذر ہو جیسےکہ ماں کی صحت اس حمل کی مدت کو پورا کرنے کی متحمل نہ ہو، یا پہلے بچے کی پرورش میں اس کی وجہ سے خلل آرہا ہو، یا یہ کہ پہلا بچہ دودھ پیتا ہو اور حمل کی وجہ سے ماں کا دودھ بند ہوگیا ہو اور بچے کا باپ اس کے لیے دودھ کا متبادل انتظام نہ کرسکتا ہو، تو ان صورتوں میں چارہ ماہ سے پہلے پہلے حمل گرانے کی گنجائش ہے، لیکن چار ماہ کے بعد حمل گرانے کی کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے، کیوں کہ چار ماہ بعد حمل میں روح پھونک دی جاتی ہےتو ایسی صورت میں اس کو گرانا کرنا قتل نفس کے حکم میں ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا صرف طلاق اور رشتہ ختم کرنے کی غرض سے حمل گرانا گو کہ چار ماہ سے کم کا حمل ہو جائز نہیں۔
باقی اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی صورت پیدا ہوجائے جس سے طلاق تک کی نوبت آجائے، تو دونوں خاندانوں کے بڑوں اور معزز لوگوں کو چاہیے کہ و ہ اصلاح کی نیت سے میاں بیوی کو آپس میں بٹھا کر سمجھائیں، دونوں کو ایک دوسرے سے جو اشکالات ہوں، انہیں دور کریں، دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق بتائیں اور ان کی ادائیگی کی تلقین کریں ، تاکہ دونوں کے درمیان نباہ کی کوئی صورت نکل آئے اور رشتہ ٹوٹنے سے بچ جائے۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا." [النساء:35]
رد المحتار میں ہے:
"مطلب في حكم إسقاط الحمل
(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح."
(كتاب النكاح، ج:3، ص:176، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101604
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن