بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی نیت کے بغیرچار بار میں تمہیں طلاق دیتا ہوں کہنے کا حکم


سوال

میری اہلیہ کا میر ی والدہ کا ساتھ جھگڑا ہوا، تو ان کے آپس کے جھگڑے کے دوران میں نے اپنی اہلیہ کو کہا کہ :"میں تجھے طلاق دیتاہوں" اور یہ الفاظ میں  نے چار مرتبہ کہے، جب کہ میری نیت نہ طلاق کی تھی اور نہ ہی غصہ میں تھابس منہ سے یہ الفاظ نکل گئے۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟جبکہ میری اہلیہ حاملہ بھی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  لفظ طلاق ، طلاق سے متعلق صریح لفظ ہے ، جس میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی ، لہذا کوئی شخص اپنی اہلیہ کولفظ طلاق کے ذریعے طلاق دے تو بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجائے گی ۔ 

لہٰذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی اہلیہ کوچار مرتبہ یہ کہا کہ" میں تجھے طلاق دیتاہوں" تو ان الفاظ کی ادائیگی سے سائل کی  بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ،سائل کی بیوی اس پرحرمتِ مغلظہ کےساتھ حرام ہو گئی ہے، اور اب شوہر کے لیے نہ رجوع کی گنجائش باقی ہے اور نہ تجدید نکاح کی اجازت ہے ۔

مطلقہ (بیوی) اپنی عدت (حاملہ  ہونے کی  صورت میں عدت وضع حمل (بچہ کی پیدائش)ہے)عدت مکمل ہونے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز."

(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق وفيه سبعة فصول الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:1، ص:354، ط:رشيدية)

وفیہ ایضًا:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.أما الإنزال فليس بشرط."

(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة،ج:1، ص:473، ط:رشيديه)

تحفة الفقہاء میں ہے:

"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن ."

(تحفة الفقهاء: كتاب الطلاق، باب العدة، ج:2، ص:244، ط: دار الكتب العلمية بيروت )

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703100069

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں