
میرے گھر میں لڑائی جھگڑے ہو گئے تھے، اس چکر میں میں نے اپنی بیوی کو الفاظ بول دیے جو نہیں بولنا چاہیے تھے، میں نے طلاق کا لفظ دو بار بول دیا اور وہ آٹھ نو ماہ کے حمل سےتھی، اس کے بارے میں پوچھنا ہے ہم دونوں میں علیحدگی ہو گئی یا نہیں ؟میں نے یہ الفاظ کہے تھے کہ :"آپ نے مجھے بہت تنگ کر رکھا ہے میں آپ کو طلاق دے دوں گا "یہ الفاظ میں نے دو بار کہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل نے یہی الفاظ کہے ہیں کہ "میں آپ کو طلاق دے دوں گا "اس کے علاوہ کوئی اور الفاظ نہیں کہے ہیں تو ایسی صورت میں مذکورہ الفاظ آئندہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے ہیں اور شرعا دھمکی کے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ،لہذا نکاح بدستور قائم اور برقرار ہے۔
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام۔"
(كتاب الطلاق ج:1 ،ص:38،ط:دار المعرفة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102353
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن