
ایک عورت ہے،اس کی ایک بیٹی بھی ہے، اس کا شوہر نشئی ہے، چار سال سے میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہیں، عورت اپنے میکے میں ہے، چار سال پہلے جب میاں بیوی ساتھ تھےتو شوہر اپنی بیوی کے نان نفقہ کا خیال نہیں رکھتا تھا، بیوی کو بے جا مارتا پیٹتا تھا،اپنی بیٹی کو اپنے دوستوں کے پاس جہاں یہ نشہ کرتا تھا لے کر جایا کرتا تھا، اپنے دوستوں کو گھر میں لا کر وہیں نشہ کرتا تھا،اور منع کرنے پر گالیاں دیتا تھا، اور کہتا تھا کہ: ”جاؤ میرا تم سے واسطہ نہیں ہے، دفع ہو جاؤ، یہاں سے نکل جاؤ“وہ اپنی بیوی کو یہ بھی کہہ چکا ہے کہ:” میں تمہیں چھوڑ چکا ہوں“ اور کئی بار اپنے دوستوں کو بھی یہ کہہ چکا ہے کہ: ”میں اسے طلاق دے چکا ہوں،اور میں اسے فارغ کر چکا ہوں“ ۔
سوال یہ ہے کہ: اس ساری صورتِ حال میں ان دونوں کا نکاح باقی ہے؟ یا نہیں؟
وضاحت:ان سارے جملوں میں ”میں تمہیں چھوڑ چکا ہوں“ والا جملہ پہلے بولا ہے ،اور عدت کے دوران قولی فعلی دونوں طریقوں میں سے کسی طریقے سے رجوع نہیں کیا ہے۔اور بقیہ جملوں کی ترتیب یاد نہیں ہے۔
بصدقِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کے شوہر نے جب پہلی مرتبہ اسے یہ جملہ کہا تھا کہ:”میں تمہیں چھوڑ چکا ہوں“ تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی، جس کے بعد عدت کے دوران مطلقہ بیوی سے رجوع کرنے کا شوہر کو حق حاصل تھا،تاہم مسئولہ صورت میں اگر واقعۃً شوہر نے مطلقہ بیوی سے رجوع نہیں کیا تھا تو عدت گزرتے ہی میاں بیوی کا نکاح ختم ہوگیا تھا،اور رجوع کا حق باقی نہیں رہا تھا، البتہ مذکورہ شخص نے مطلقہ بیوی کی عدت کے دوران اگر اپنے دوستوں کو یہ الفاظ کہے ہوں کہ”میں اسے طلاق دے چکا ہوں، میں اسے فارغ کر چکا ہوں“ تو ان الفاظ سے مذکور خاتون پر مزید دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور مطلقہ بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی، شوہر کے لیے مطلقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا حرام ہوگا، البتہ مذکورہ الفاظ اگر مطلقہ بیوی کی عدت گزرنے کے بعد کہے ہوں، تو ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ بہر صورت مذکورہ خاتون کے لیے کسی اور سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔
ملحوظ رہے کہ ”جاؤ میرا تم سے واسطہ نہیں ،دفع ہوجاؤ،یہاں سے نکل جاؤ“ان الفاظ سے طلاق کا واقع ہونا نہ ہونا نیت پر موقوف ہوتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت".
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:299، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"وقد مر ان الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفا الافيه من اي لغة كانت،وهذا في عرف زمانناكذلك فوجب اعتباره صريحا."
(كتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج:3، ص:252، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك".
(کتاب الطلاق، فصل في شرائط رکن الطلاق وبعضھا یرجع إلي المرأۃ، ج:3، ص:126، ط:دار الکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية".
(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إیقاع الطلاق، ج:1، ص:376، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، .... (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال ... (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط)".
(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:298، ط: سعيد)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"أن من أقر بطلاق سابق يكون ذلك إيقاعا منه في الحال؛ لأن من ضرورة الاستناد الوقوع في الحال، وهو مالك للإيقاع غير مالك للإسناد".
(کتاب الطلاق، باب من الطلاق، ج:6، ص:133، ط:دار المعرفة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها".
(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفیما تحل به المطلقة وما یتصل به، ج:1، ص:473، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702101625
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن