بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے خیالات آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی


سوال

مجھے تقریبا سات سال سے وہم اور وسوسے کی بیماری ہے، ڈاکٹروں سے علاج بھی کرایا، لیکن کوئی  خاص فائدہ نہیں ہوا، اکثر مجھے خیالات آتے رہتے ہیں کہ میں نے بیوی کو طلاق دے دی ، ہونٹ بھی کبھی ہل رہے ہوتے ہیں ۔ لیکن الفاظ پیدا نہیں ہوتے ، نہ آواز سنائی دیتا ہے ۔ کبھی نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں تو یہ خیال آتا ہے کہ یہ نماز طلاق کے لیے پڑھ رہا ہوں ، کبھی بیوی کو بلاتا ہوں کہ مثلا: کھانے کے لیے آجاؤ ، یا سونے کے لیے آجاؤ وغیرہ ، اور ذہن میں طلاق کا خیال آجاتا ہے۔

برائے مہربانی راہ نمائی کریں  کہ مذکوره حالات میں کیا طلاق واقع تو نہیں  ہو جاتی ؟ جب کہ یہ وسوسے بہت زیادہ آتے ہیں . ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ کو OCD کی بیماری ہے۔

جواب

واضح رہے کہ طلاق کے وقوع کےلیے زبان سے طلاق کے الفاظ کا ادا ہونا ضروری ہے، یا الفاظ کے قائم مقام کوئی چیز جو الفاظ اور ارادہ پر دلالت کرے، جیسے کوئی تحریر وغیرہ،تو اس سے طلاق واقع ہوتی ہے،  دل میں محض طلاق کا خیال آنے کی وجہ سے یا دل میں طلاق کے دینے یا نہ دینے کے شک کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی؛ لہذا صورت مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،اور اس قسم کے خیالات کی طرف دھیان ہی نہیں دینا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس."

(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 224، ط: سعید)

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

"حتى لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف"

(کتاب الصلاۃ ، باب شروط الصلاۃ و أرکانھا، ص:84، ط:المكتبة العصرية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100730

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں