بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے علیحدگی کے مطالبے پر یہ کہنا کہ ٹھیک ہے میں نےعلیحدہ کردیا ہے


سوال

میں نے چند دن قبل جامعہ ہذا سے فتوی لیا تھا، اس میں یہ تھا کہ بیوی نے علیحدگی کا مطالبہ کیا تھا  اور میں نے جوابا کہا تھا کہ " ٹھیک ہے میں نےعلیحدہ کردیا ہے"  اور سابقہ فتوی میں میں نے یہ بھی لکھوایا تھا کہ اس سے میر ی نیت طلاق کی تھی(یہ میں نے بیوی اور گھر والوں کو ڈرانے کے لیے لکھوایا تھا تاکہ طلاق کا فتوی دیکھ کر وہ ڈر جائیں)، تو اس سابقہ سوال کا فتوی طلاق کے واقع ہونے کا آیا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ علیحدگی کہتے وقت میری نیت طلاق کی نہیں تھی، تو کیا طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟

سابقہ فتوی نمبر: 144702102153

جواب

سائل نے اس سے قبل جو تحریری سوال دارالافتاء میں جمع کروایا تھا اس میں یہ صراحت کی تھی کہ کہ سائل نے مذکورہ بالا الفاظ ادا کرتے ہوئے طلاق کی نیت کی تھی ، لہذا اس کے موافق تیسری طلاق(طلاق بائن)کے وقوع کا فتوی دیا گیا تھا، مذکورہ جو جواب جاری ہوا حکم اسی کے موافق ہے ، لہذا سائل کا ایک دفعہ نیت طلاق کے اقرار کے بعد  اولاً نیت کا اقرار اور صراحت کرنا اور اب طلاق کی نیت سے منکر ہونا شرعاً قابل اعتبار نہیں ، کیونکہ جس طرح طلاق کا جھوٹا اقرار بھی طلاق ہے، اسی طرح طلاق کی نیت کا جھوٹا اقرار بھی حقیقی اقرار شمار ہوتا ہے۔ لہذا سابقہ فتوی ہی برقرار ہے ، جوکہ درج ذیل ہے :

"سوال:

شادی کے چھ سال بعد میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں، اس کے بعد ہم نے دوبارہ نکاح کیا اور باہمی رضامندی سے زندگی گزار رہے تھے، بعد میں میری بیوی طلاق کا مطالبہ کرنے لگی، لیکن میں اس معاملے کو ٹالتا رہا، ایک دن اُس نے اصرار کیا کہ ہم رضامندی سے علیحدہ ہو جائیں، تو میں نے کہا: "ٹھیک ہے، میں نے علیحدہ کر دیا ہے"  اور میری نیت اس وقت طلاق ہی کی تھی، اور اس پر ہم دونوں راضی بھی تھے، لیکن اب بیوی کے گھر والے کہتے ہیں کہ اس طرح طلاق واقع نہیں ہوتی، اور خود بیوی بھی انکار کر رہی ہے کہ ميں نے طلاق یا علیحدگی کا کوئی مطالبہ کیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ  كيااس صورت میں طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ پہلی دو طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح ہونے پر شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار حاصل تھا یا ازسرنو تین طلاقوں کا؟

جواب:

صورت مسئولہ میں سائل نےدوسری مرتبہ نکاح کے بعدجب اپنی بيوی سےکہاکہ"ٹھیک ہے، میں نے علیحدہ کر دیا ہے"طلاق کی نیت کےساتھ تواس سے سائل کی بیوی پرتیسری طلاق واقع ہوئی اوروہ سائل پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی،اب نہ رجوع کی گنجائش ہےاور نہ دوسری مرتبہ نکاح کی گنجائش ہے،سائل کی بیوی اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگرحمل نہ ہواور اگرحمل ہوتوبچےکی پیدائش تک کامدت)گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

اب جب اس نے اس کو استعمال کر لیا تو اب مزید کسی طلاق کا کوئی حق باقی نہیں ہے۔"

رد المحتار  میں ہے :

"ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً."

( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 236، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے :

"والثالث أن القول بالمعارضة يكون رجوعا عن الإقرار، والرجوع عن الإقرار في حقوق العباد لا يصح كما إذا قال له علي عشرة دراهم وليس له علي عشرة دراهم"

(کتاب الإقرار، فصل في القرينة الداخلة على قدر المقر به في ركن الإقرار، ج: 7، ص: 211، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704102010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں