بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1448ھ 04 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد سابقہ بیوی کی بھانجی سے نکاح کا شرعی حکم


سوال

میری خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دی ہے۔ اب وہ شخص مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو کیا مجھ سے ان کا نکاح درست ہوگا کہ نہیں؟ گھر والوں کا کہنا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اپنے خالو سے نکاح کر لیا ہے۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی ہو اور ان کی عدت بھی مکمل ہو چکی ہو، تو اس کے بعد اس شخص کا آپ سے نکاح کرنا شرعاً جائز و درست ہے؛ کیونکہ خالو کے ساتھ کوئی نسبی رشتہ نہیں ہوتا، نیز بیوی کی بھانجی اس کے لیے محرماتِ ابدیہ میں بھی شامل نہیں۔ ممانعت صرف اس وقت ہوتی ہے جب ایک عورت اور اس کی بھانجی کو بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں جمع کیا جائے۔ لہٰذا محض یہ بات کہ وہ پہلے آپ کے خالو تھے، اس نکاح کے جواز میں مانع نہیں، اور نہ ہی لوگوں کے کہنے یا محض معاشرتی رواج کی بنا پر اس نکاح کو ناجائز قرار دیا جا سکتا۔

البتہ اگر طلاق کے بعد خالہ ابھی عدت میں ہو، تو عدت مکمل ہونے تک اس کی بھانجی (سائلہ) سے نکاح کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ عدت کے دوران نکاح کے بعض احکام باقی رہتے ہیں، اور شریعتِ مطہرہ نے ایک عورت اور اس کی بھانجی کو بیک وقت ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

تاہم نفسِ نکاح جائز ہونے کے ساتھ سابق خالو کا مزاج اور نباہ اور خالہ  کو طلاق دینے کی وجوہ پر غور کریں، تاکہ مستقبل  میں آپ سے ایسا سلوک نہ کرے۔امید نباہ، ووفاء، ہو تو استخارہ کر کے عمل کریں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"ولا يحل أن يتزوج أخت معتدته سواء كانت العدة عن طلاق رجعي أو بائن أو ثلاث أو عن نكاح فاسد أو عن شبهة وكما لا يجوز أن يتزوج أختها في عدتها فكذا لا يجوز أن يتزوج واحدة من ذوات المحارم التي لا يجوز الجمع بين اثنتين منهن وكذا لا يجوز أن يتزوج أربعا سواها عنده هكذا في الكافي. ولو أعتق أم ولده؛ لم يحل له تزوج أختها حتى تنقضي عدتها."

(كتاب النکاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، ج:1، ص:279، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وكما لا يجوز للرجل أن يتزوج امرأة في نكاح أختها لا يجوز له أن يتزوجها في عدة أختها، وكذلك التزوج بامرأة هي ذات رحم محرم من امرأة بعقد منه، ‌والأصل ‌أن ‌ما ‌يمنع صلب النكاح من الجمع بين ذواتي المحارم فالعدة تمنع منه."

(کتاب النکاح، فصل أنواع الجمع بين ذوات الأرحام منه جمع في النكاح، ج:2، ص:263، ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101474

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں