
میری بیٹی کی شادی دو سال قبل ہوئی تھی، لیکن رواں سال اگست میں اس کو طلاق ہوگئی ہے۔ اب درج ذیل امور کے بارے میں شرعی راہ نمائی درکار ہے:
ہم نے اپنی بیٹی کو جو جہیز دیا تھا، وہ شرعاً کس کا حق ہے؟ کیا ہم اس کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جہیز کی بعض چیزیں بیٹی کے سسرال والوں نے اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرلی ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟
سسرال والوں نے بیٹی کو ایک تولہ سونا دیا تھا، جس کے بارے میں نکاح فارم میں ”بخشش“درج ہے، یعنی وہ سونا بطورِ ملکیت بیٹی کو دیا گیا تھا۔ نکاح فارم فی الحال لڑکے والوں کے پاس ہے، لیکن اب وہ اس سونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ شرعاً یہ سونا کس کا حق ہے؟
1:ماں باپ کی طرف سے بیٹی کو رخصتی کے وقت جہیز میں جو سامان دیا جاتا ہے، اس کی مالک بیٹی ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں والدین کی طرف سے دیا گیا جہیز بیٹی کی ملکیت ہے اور وہ اس کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا پورا حق رکھتی ہے۔
2:جہیز کی وہ اشیاء جو بیٹی کے سسرال والوں نے اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرلیں، وہ بھی سائل کی بیٹی ہی کی ملکیت ہیں۔ ان کی واپسی کا حق بھی سائل کی بیٹی کو حاصل ہے۔ سسرال والوں کا ان چیزوں کو بغیر اجازت استعمال کرنا شرعاً درست نہیں تھا۔
3:۔۔۔ سسرال والوں کی جانب سے سائل کی بیٹی کی ملکیت میں دیا گیا ایک تولہ سونا، جو نکاح فارم میں ”بخشش“کے طور پر درج ہے، وہ بھی سائل کی بیٹی ہی کی ملکیت ہے۔ لہٰذا سسرال والوں کا اس سونے کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"بل كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:158، ط:سعيد)
وفیہ ایضاً:
"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضاً."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:153، ط:سعيد)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة 96) :لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار. ...كذلك ليس لأحد أن يدخل دار الآخر أو مزرعته المسيجة بدون إذنه؛ لأنه بدخوله الدار أو المزرعة يكون قد استعملها."
(المقدمة،المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، رقم المادة:96، ج:1، ص:96، ط:دار الجيل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702101687
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن