بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 محرم 1448ھ 27 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے الفاظ تین مرتبہ استعمال کرنے کا حکم


سوال

میری اہلیہ کے تعلقات  خراب ہوئے،جس کی وجہ سے اکثر لڑائی اور بدکلامی ہوتی تھی،پھر ان کا حمل ضائع ہوگیا،تو انہوں مجھ پر  الزام لگایا کہ آپ نے اُسے مار ا ہے جس کی وجہ سے حمل ضائع ہوگیا ہے۔

اسی طرح میری اہلیہ  نے کسی بیماری کے سلسلے میں آغا خان ہسپتال سے علاج کروانا چاہا،میں نے منع کیا کہ  میں آغا خان ہسپتال کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا،لیکن اس کے باوجود انہوں نے وہاں سے علاج کروایا۔

پھر وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور مجھ سے ملاقات بند کردی،میرا فون نمبر بلاک کیا؛پھر جب ایک دفعہ ملاقات ہوئی  تو سالی سے بد کلامی ہوئی، مجھے اس وقت پتہ نہیں چلا کہ میں نے کیا کہا ہے؟

انہوں نے مجھے ریکارڈ بھیجا جس میں کہہ رہا تھا کہ ”میں آپ کی بہن کو طلاق دیتاہوں،میں آپ کی بہن کو طلاق دیتاہوں،میری طرف سے آزاد ہے،اپنا سامان اٹھالے“۔

نوٹ: یہ ریکارڈنگ میری اہلیہ کو بھی سنائی گئی ہے۔

وضاحت: انہوں نے مجھ پر تعویذ کیا تھا جس کی وجہ سے مجھے طلاق دیتے ہوئے پتہ نہیں چلا،بعد میں میرے گھر سے تین تعویذ بر آمد ہوئے،جن میں ایک  آدھا جلاہوا تھا،اور باقی دو میں نے سمندر میں پھینک دیے۔

کیا  میری اہلیہ پر طلاق واقع ہوگئی ہے؟جواب عنایت فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے مذکورہ الفاظ سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،اب رجوع یا تجدیدِ نکاح کی گنجائش نہیں۔

قرآن کریم میں  ہے:

"الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ"(البقرة:(229.230

ترجمہ:’’ وہ طلاق دو مرتبہ (کی )ہے ، پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق، خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ ...  پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے۔‘‘  ) بیان القرآن)

بخاری شریف میں ہے:

"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."

(كتاب الطلاق،باب من أجاز طلاق الثلاث،ج: 2،ص: 300،ط : رحمانية)

ترجمہ: ’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا اور دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے جیساکہ پہلے شوہر نے چکھی ہے۔‘‘

فتاوی  ہندیہ  میں ہے :

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."

(کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فیما تحل به الطلقة،ج: 1،ص: 473، ط: رشیدیة)

وفيه ايضاً:

"والطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح بأن قال لها أنت طالق ثم قال لها أنت بائن تقع طلقة أخرى."

(‌‌كتاب الطلاق،‌‌الباب الثاني في إيقاع الطلاق،‌‌الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق،ج:1،ص: 377،ط: رشیدیة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101101

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں