بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد بچوں کی پرورش کا حق


سوال

میری بیٹی کے شوہر نے میری بیٹی کو طلاق دے دی ہے اور دونوں بچے چھین لیے ہیں ،بیٹی کی عمر ایک سال ہے جو کہ ماں کا دودھ پیتی ہے  اور بیٹے کی عمر پانچ سال ہے، بچوں کا باپ اور اس کے گھر والے کسی صورت بچوں کو ملنے نہیں دے رہے ماں سے، جب کہ ہم نے بار بار کوشش کی، شریعت میں اس حوالے سے کیا احکامات ہیں اور اس کا کیا فیصلہ  ہونا چاہیے ایک سال کی بچی اور پانچ سال کا بیٹا اس عمر کے بچے ماں کے پاس ہونے چاہیے یا باپ کے پاس ہونے چاہیے اگر باپ کے پاس ہوں تو ماں کا کتنا ملنے کا حق ہے بچوں سے؟

جواب

میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں لڑکے کی عمر7سال اور لڑکی کی عمر 9سال تک(بشرط یہ کہ بچے کے غیر محرم سے نکاح نہ کرے تو) ماں کو بچوں کی پرورش کا حق حاصل ہے، نو سال کے بعد بچی اور سات سال کے بعد  بچے کی پرورش کا حق ان کے والد کو حاصل ہوگا۔  نیز بچہ جب تک  والدہ کی پرورش میں ہے تو اس کے والد کو  اور جب والد کی پرورش میں ہو، والدہ کو اس سے ملاقات  کا حق حاصل ہوتا ہے، کسی بھی فریق کا دوسرے کو ملاقات سے روکنا جائز نہیں ہے؛لہذا صورت مسئولہ میں  پانچ سال کے بچہ اور ایک سال کی   بچی کی پرورش کا حق والدہ کو ہے ، والد کا زبردستی ان کو اپنے پاس  زبردستی روکے رکھنا شرعاً جائز نہیں ہے،شرعی حکم مان لے توٹھیک ورنہ عدالت کے ذریعہ ماں اپنا حق وصول کرلے۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب‘‘.

(3/566، باب الحضانۃ، ط: سعید)


فتویٰ نمبر : 144707100765

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں