
میرے ساس اور سسر مجھ سے لڑتے جھگڑتے تھے، میں دو بار اپنی امی کے گھر گئی ،پھر جب میں واپس آئی تو میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ :"اگلی دفعہ تم گئی تو میں تم سے تین الفاظ بول دوں گا"، اس کے بعد میں اپنی امی کے گھر گئی اور چار پانچ مہینے سے وہی ہوں، کوئی مجھ کو لینے کے لیے نہیں آیا ،میرے سسر مجھ سے کہتے ہیں کہ ہم اس طرح بغیر کچھ لیے دیے معاملہ ختم کر دیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ شوہر نے مجھ سے جو کہا کہ :"اگلی دفعہ گئی تو میں تم سے تین الفاظ بول دوں گا" اس سے طلاق ہوئی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے جو الفاظ کہے ہیں کہ "اگلی دفعہ گئی تو میں تم سے تین الفاظ بول دوں گا "اس کے علاوہ کوئی اور الفاظ نہیں کہے تھے تو ایسی صورت میں مذکورہ الفاظ آئندہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے ہیں اور شرعا دھمکی کے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ،لہذا سائلہ کا نکاح بدستور قائم اور برقرار ہے۔
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."
(كتاب الطلاق ج:1 ،ص:38،ط:دار المعرفة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100268
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن