بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کا رکن اور بیوی کا میکے میں بیٹھ جانا


سوال

میں نے اپنی بیوی کو نہ کبھی طلاق دی ہے اور نہ طلاق کے الفاظ منہ سے بولے ہیں، خوامخواہ وہ اپنے میکے والوں کے دباؤ میں آ کر میکے بیٹھ گئی ہے، اور نہ کبھی خلع دینے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے اور نہ میں اسے چھوڑنا چاہتا ہوں۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں کیا حکم ہو گا؟ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً آپ نے اپنی بیوی کو کبھی طلاق نہیں دی اور نہ ہی خلع کا معاملہ کیا ہے تو ایسی صورت میں آپ دونوں کا نکاح برقرار ہے، ساتھ رہنا جائز ہے، بیوی کو چاہیے کہ اپنے شوہر کے حقوق کو پہچانے اور بلا وجہ اپنے میکے میں نہ رہے،  بیوی کا بلا وجہ شوہر سے دور رہنا، شوہر کو ناراض کرنا اور اس کے بلانے پر بھی اس کے گھر نہ جانا شوہر کی نافرمانی کہلائے گی اور شوہر کی نافرمانی کرنا سخت گناہ کا کام ہے، اگر کوئی شکایت ہو تو خاندان کے بڑوں کو مسئلہ سے آگاہ کر کے اس کو حل کروائے، شوہر کو بھی چاہیے کہ بیوی کی شکایت سن کر اس کے ازالہ کی کوشش کرے۔

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"و عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد لأحدٍ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي."

( كتاب النكاح، باب عشرة النساء، ج: 2، ص: 792، ط : المكتب الإسلامي) 

ترجمہ:"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”(بالفرض) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔"

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح»

(مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 280 ط: قديمي)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لیےبلائے اور بیوی انکار کرے، جس پر شوہر غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ "

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"وعن طلق بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور». رواه الترمذي".

(مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 281 ط: قديمي) 

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب شوہر اپنی بیوی کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بلائے تو  عورت کو چاہیے کہ وہ اس کے پاس چلی جائے اگر چہ روٹی پکانے کے لیے تنور پر کھڑی ہو۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية."

(کتاب الطلاق،ركن الطلاق، جلد : 3 ، صفحہ : 230 ، ط :  سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101513

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں