
بیوی کا بیان:
میرے شوہر مجھے کہہ رہے تھے کہ میرے پاؤں دباؤ، تو میں نے کہا کہ میرے اوپر اثرات ہیں، میں ابھی نہیں دبا سکتی۔ پھر وہ بیٹھ گئے اور پشتو میں کہا کہ"تہ پہ ما باندی دا سے سلے لکا مور شودے"، یعنی "تو میرے اوپر ایسے ہو گئی جیسے ماں کا دودھ"۔ پھر 15 دن بعد انہوں نے دوبارہ کہا کہ میرے پاؤں دباؤ، میں نے پاؤں دبانے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے پشتو کہا کہ" تہ پہ ما باندے داسے سلے لکہ مور اور خور"، یعنی"تو میرے اوپر ایسے ہو گئی جیسے میرے اوپر میری ماں اور بہن"۔ اس معاملے کے بعد میرے والد، میرے شوہر کے بھائی، ہمارے ہاں کے مقامی دارالافتاء میں گئے اور یہ بیان لکھوایا، جس پر وہاں کے مفتی صاحب نے لڑکے سے تصدیق کی اور پوچھا کہ آپ نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے تھے یا نہیں؟ تو اس نے تصدیق کی کہ میں نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے تھے، اس پر لڑکے کا بھائی، مقامی مفتی صاحب، اور میرے والد تینوں گواہ ہیں۔ لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد اس کے کچھ چچا زاد بھائیوں نے اسے ورغلایا اور کہا کہ آپ اس بات سے انکاری ہو جاؤ اور قسم کھا لو، تو آپ کی بیوی واپس آ جائے گی۔ تو اس نے اس بات سے انکار کر دیا ہے۔ اب اس معاملے کا شرعی کیاحکم ہے؟
نوٹ:
مقامی دارالافتاء کا فتویٰ بھی سوال نامے کے ساتھ منسلک ہے، جس میں یہ صراحتاً لکھا ہوا ہے کہ سائلہ کے شوہر نے تصدیق کی ہے کہ اس نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے ہیں۔
شوہر کا بیان:
میں نے یہ الفاظ ایک ہی مرتبہ کہے ہیں، اور ان الفاظ سے میری کوئی نیت نہیں تھی، اور میں قسم کھانے کے لیے بھی تیار ہوں۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے مقامی دارالافتاء میں جب اپنے ان الفاظ کی تصدیق کر دی کہ اس نے یہ الفاظ طلاق کی نیت ہی سے کہے تھے(جیسا کہ مقامی دارالافتاء سے جاری شدہ فتوی میں صراحتاً مذکور ہے)، تو ان الفاظ کے کہنے سے سائلہ پر ایک طلاق بائنہ واقع ہو چکی ہے، نکاح ختم ہو چکا ہے، اور سائلہ اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہے، اب رجوع کرنا جائز نہیں، البتہ اگر سابقہ میاں بیوی دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہیں تو مہر مقرر کر کے شرعی گواہوں کے سامنے تجدید نکاح کرنا ہوگا، نکاح کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق ہو گا، نیز اگر لڑکی تجدید نکاح پر راضی نہ ہو تو اسے مجبور نہیں کیا جاسکتا، اور وہ اپنی عدت مکمل تین ماہواریاں اگر حاملہ نہ ہو، حمل کی صورت میں وضع حمل تک کا عرصہ گزار کر کسی اور سے نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
رہی بات سائلہ کے شوہر کے انکار کی تو طلاق کا اقرار کرنے کے بعد اس کا انکار معتبر نہیں، تاہم اگر وہ اپنے انکار پر مصر ہو تو سائلہ کے شوہر کے اقرار پر جو شرعی گواہ موجود ہیں وہ گواہی دے دیں تو اس کا انکار جھوٹا انکار قرار پائے گا، اس لیے اس کا شرعی حل یہ ہے کہ فریقین اپنا معاملہ کسی مفتی یا معتبر عالم دین کے سامنے رکھیں، اور ان کو فیصل مقرر کریں، پھر وہ فریقین اور گواہوں کو سن کر اس پر شرعی فیصلہ دیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً."
( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 236، ط: سعید)
مبسوط سرخسی میں ہے:
"(قال): وإذا شهد شاهدان على رجل أنه طلق امرأته ثلاثا وجحد الزوج، والمرأة ذلك فرق بينهما؛ لأن المشهود به حرمتها عليه، والحل، والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه من غير دعوى كما لو شهدوا بحرمتها عليه، والحل، والحرمة حق الله تعالى فتقبل الشهادة عليه بنسب أو رضاع أو مصاهرة".
(کتاب الطلاق، باب الشهادة في الطلاق، ج:6، ص:145،ط:دار المعرفة)
فتاوی شامی میں ہے :
"(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.
(قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ " يا أخية " استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه. اهـ"
(کتاب الطلاق، باب الظهار، ج:3، ص:470، سعید)
وفیہ ایضاً:
"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب ."
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:409، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100851
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن