بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کا بہتر طریقہ اور اس کے بعد عدت اور عورت کو ملنے والے زیورات کا حکم


سوال

میری بھانجی کی آج سے تقریباً9 ماہ پہلے شادی ہوئی،شروع میں سارے معاملات الحمدللہ ٹھیک چل رہے تھے،لیکن کچھ مہینوں سے میاں بیوی میں رنجشیں اور ناراضی ہوگئی، بڑوں نے حل کرنے کی کوشش کی،پھر کچھ وقت تک سارے معاملات درست چل رہے تھے،لیکن پھر دوبارہ رنجشیں اور ناراضی پیدا ہوگئی، اب بات علیحدگی تک پہنچ گئی ہے۔

اس مسئلہ کے حوالہ سے شرعی اعتبار سے چند امور میں راہ نمائی مطلوب ہے:

1:طلاق دینے کا شرعی طریقہ بتائیں کہ کتنی مرتبہ طلاق دی جاۓ؟

2:طلاق کے بعد عدت کتنے دن ہوگی،عدت کہاں گزارےگی،عدت کے دوران خرچہ کس کے ذمے ہوگااور کتنا ہوگا؟

3:شادی کے موقعہ پر عورت کو ملنے والے تحائف اور زیورات کا کیا حکم ہے،آیا سسرال کی جانب سے ملنے والے زیورات واپس کرنے ہوں گے؟

جواب

1:اگر نباہ کی تمام  کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور میاں  بیوی یا ان کے اولیاء یہ سجھتے ہوں کہ اب علیحدگی میں ہی بہتری ہے تو طلاق کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی کو پاکی کے ایام میں(جس میں اس نے اپنی بیوی سے ہمبستری نہ کی ہو) ایک طلاق رجعی دےدےاور پھر عدت گزرنے دے اور  رجوع نہ کرے،لہذا عدت گزرتے ہی نکاح بھی ختم ہوجاۓگا اور مطلقہ کہیں اور نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،اس کو طلاق احسن کہاجاتاہے،اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر میاں بیوی کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ دوبارہ ازدواجی رشتہ قائم کرنا چاہیں تو تجدید نکاح کی گنجائش ہوگی۔

2:طلاق کے بعد عورت کی عدت مکمل  تین ماہواریاں  ہے اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو وضع حمل ہے، شوہر کے گھر میں عدت گزارنا لازم ہے اور عدت کے دوران خرچہ شوہر کے ذمے لازم ہے،لیکن یہ اس صورت میں کہ جب بیوی عدت شوہر کے گھر میں گزارے،اگر بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر عدت کہیں اور گزارے تو اس وقت یہ خرچہ شوہر کے ذمے لازم نہ ہوگا،عدت کے دوران شوہر پر اس کے استطاعت اور عورت کی ضرورت کے مطابق خرچہ لازم ہوگا۔

3:شادی کے موقعہ پر لڑکی کو جوتحائف ملے ہیں،یا وہ زیورات جو بطور منہ دکھائی یا بطور ہبہ(گفٹ) یا بطور مہر   دیے گئےہوں،وہ  سب  لڑکی کی ملکیت ہیں اور ان زیورات کا سسرال والوں کو واپس کرنا ضروری نہیں،البتہ  لڑکی کو بری میں  دیے گئے سامان میں ذرا تفصیل ہے،کہ : لڑکی کو نکاح کے موقع پر جو سامان بری  میں  دیا گیا مثلاًکپڑے ،میک اپ  کا سامان،جوتےوغیرہ تو یہ سامان لڑکی کی ملکیت ہے ،البتہ بری کے زیورات کے بارےمیں حکم یہ ہے کہ اگر دیتے وقت یہ صراحت کی گئی  ہو کہ یہ بطور  ہبہ(گفٹ) کے ہیں تو زیورات لڑکی کی ملکیت  ہوں گے،اور اگریہ صراحت کی گئی تھی کہ یہ صرف بطور استعمال کے ہیں تو وہ  دینے والوں کی ملکیت ہوں گے، اور اگر  زیورات دیتے وقت کچھ نہیں کہا گیا تھا تو پھرلڑکے کے  خاندان کے عرف کو دیکھا جاۓ گا کہ اگر لڑکے کے خاندان کےعرف میں بری کا زیور لڑکی کی ملکیت سمجھاجاتا ہو تو وہ لڑکی کا ہوگا اور اگر عرف یہ ہو کہ یہ زیورات فقط استعمال کے لئے دیے جاتے ہیں تو پھر وہ لڑکے والوں کا حق ہوگااور اگر کوئی عرف نہ ہو تو ظاہر کااعتبار کرکےوہ بھی لڑکی کی ملکیت سمجھا جاۓ گا۔

الدرالمختار میں ہے:

"(وأقسامه ثلاثة: حسن، وأحسن، وبدعي يأثم به) وألفاظه: صريح، وملحق به، وكناية (ومحله المنكوحة) وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ،وركنه لفظ مخصوص خال عن الاستثناء (طلقة) رجعية (فقط في طهر لا وطئ فيه) وتركها حتى تمضي عدتها (أحسن) بالنسبة إلى البعض الآخر(وطلقة لغير موطوءة ولو في حيض ولموطوءة تفريق الثلاث في ثلاثة أطهار لا وطئ فيها ولا في حيض قبلها ولا طلاق فيه فيمن تحيض، و) في ثلاثة (أشهر في) حق (غيرها) حسن وسني، فعلم أن الاول سني بالاولى (وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطئ) لان الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا. (والبدعي ثلاث متفرقة) أو اثنتان بمرة أو مرتين في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة) لو قال: والبدعي ما خالفهما لكان أوجز وأفود (وتجب رجعتها) على الاصح (فيه) أي في الحيض. رفعا للمعصية (فإذا طهرت) طلقها (إن شاء) أو أمسكها،قيد بالطلاق لان التخيير والاختيار والخلع في الحيض لا يكره، مجتبى. والنفاس كالحيض.جوهرة."

 (کتاب الطلاق، ص:205، ط:دارالکتب العلمیة بيروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان ... والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية . ولو طلقها، وهي ناشزة فلها أن تعود إلى بيت زوجها، وتأخذ النفقة ...  وكما تستحق المعتدة نفقة العدة تستحق الكسوة كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة؛ لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح."

(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثالث في نفقة المعتدة،  ج:1، ص:558، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة،فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضاً."

(کتاب النکاح، باب المهر، ج 3، ص 153، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"والمعتمد البناء على العرف كما علمت."

(کتاب النکاح، باب  المهر، ج 3، ص 157، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101793

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں