
میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک خاوند نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی ہو اور وہ اس پر قسم لینے کو بھی تیار ہے، لیکن بیوی کا کہنا ہے کہ تم نے مجھے طلاق دی ہے، کیا اس سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں اور بیوی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر بیوی طلاق کا دعوی کرے کہ شوہر نے اسے طلاق دی ہے اور شوہر بیوی کے اس دعوی کاانکار کرے، تو بیوی پر لازم ہے کہ اپنے اس دعوی پر شرعی گواہ (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) پیش کرے، اگر بیوی نے گواہ پیش کردیے، تو بیوی پر طلاق واقع ہونے کا حکم لگایا جائے گا اور اگر بیوی کے پاس شرعی گواہ نہ ہوں، تو پھر شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر شوہر نے قسم کھالی، اور بیوی شوہر کی قسم پر اعتماد کا اظہار کرے، اور اپنے دعوے سے دستبردار ہوجائےتو ان دونوں کا نکاح برقرار رہے گا، اگر شوہر قسم سے انکار کردے، تو بیوی کا دعوی ثابت ہوجائے گا۔
اگر شوہر کی قسم پر بیوی اعتماد نہیں کرتی اور بیوی کو یقین ہوکہ شوہر نے اسے تین طلاقیں دی ہیں اور خود اس نے اپنے کانوں سے طلاق کے الفاظ سنے ہوں، تو دونوں کو میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کا جواز نہیں ہوگا۔بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کو اپنے اورپر قدرت نہ دے، بلکہ کسی بھی طریقے سے شوہر سے طلاق لے لے، یا باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ کر کے اپنے آپ کو شوہر کے نکاح سے آزاد کرالے۔
چوں کہ یہ تمام معاملہ باہمی طور پر حل نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے کسی مستند عالم دین فیصل کی ضرورت ہے، اس لیے دونوں میاں بیوی کو چاہیے کہ کسی دار الافتاء میں حاضر ہوکر مفتی صاحب کو فیصل مقرر کر کے اس کا فیصلہ کروالیں، جب تک فیصلہ نہ ہوجائے، دونوں کا اکٹھے رہنا درست نہیں، اوربیوی دوسری جگہ نکاح بھی نہیں کرسکتی ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ." [البقرة:282]
حدیث شریف میں ہے:
"عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» . رواه الترمذي."
(كتاب الإمارة والقضاء، ج:2، ص:1112، ط:المكتب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه."
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:251، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100615
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن