
میری بہن کو طلاق ہوگئی ہے، اس کے دو بچے ہیں، دونوں لڑکیاں ہیں، ایک ڈیڑھ سال کی اور ایک چھ ماہ کی، معلوم یہ کرنا ہے کہ بہن اپنی بچیوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے ،بچیوں کا ماہانہ خرچ کتنا اور کیسے طے کیا جائے گا جو ہم لڑکے سے مطالبہ کر سکیں؟
واضح رہے میاں بیوی کی علیحدگی کے بعد نو سال کی عمر تک بیٹی کی پرورش کا حق والدہ کو ہوتا ہے، نو سال کی عمر کے بعد بیٹی کو والد اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ،اور زیادہ حق دار بھی باپ ہی ہوتا ہے ،البتہ باپ اگر اپنی خوشی سے بیٹی کو مذکورہ عرصہ کے بعد والدہ کے ہاں چھوڑنے پر راضی ہو تو یہ بھی جائز ہے ،بشرطیکہ اس کی تربیت متاثر نہ ہو۔البتہ دونوں صورتوں میں بیٹی کا نان و نفقہ اس کی شادی تک والد کے ذمہ لازم و ضروری ہیں ،نیز بیٹی کی پرورش میں ان کی جسمانی نشو و نما کے ساتھ ساتھ ذہنی ، اخلاقی اصلاح اور تعلیم و تربیت کا خیال رکھا جائے، نیز بچوں کی دینی اصلاح اور تعلیم کا بھی خصوصی اہتمام کریں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن کا سابقہ شوہر پر اس کی استطاعت و حیثیت اور بچوں کی حاجت کے مطابق بچیوں کا خرچہ مذکورہ تفصیل کے مطابق لازم ہو گا ،اس میں بچیوں کے نان نفقہ کے ساتھ تعلیم وتربیت علاج معالجہ کا خرچہ بھی (عرف وحیثیت کے مطابق)شامل ہے، نیز اس میں کوئی خاص مقدار متعین کرنا مشکل ہے۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"وإذا أراد الفرض، والزوج موسر يأكل الخبز الحواري واللحم المشوي، والمرأة معسرة، أو على العكس اختلفوا فيه والصحيح: أنه يعتبر حالهما كذلك في الفتاوى الغياثية وعليه الفتوى حتى كان لها نفقة اليسار إن كانا موسرين، ونفقة العسار إن كانا معسرين، وإن كانت موسرة، وهو معسر لها فوق ما يفرض لو كانت معسرة، فيقال له: أطعمها خبز البر وباجة أو باجتين، وإن كان الزوج موسرا مفرط اليسار نحو أن يأكل الحلواء، واللحم المشوي والباجات وهي فقيرة كانت تأكل في بيتها خبز الشعير لا يجب عليه أن يطعمها ما يأكل بنفسه، ولا ما كانت تأكل في بيتها، ولكن يطعمها خبز البر وباجة، أو باجتين."
(كتاب الطلاق ،[الباب السابع عشر في النفقات وفيه ستة فصول ،الفصل الأول في نفقة الزوجة ،ج:1،ص:544 ،ط:دارالفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"قال في البحر : واتفقوا على وجوب نفقة الموسرين إذا كانا موسرين، وعلى نفقة المعسرين إذا كانا معسرين، وإنما الاختلاف فيما إذا كان أحدهما موسراً والآخر معسراً، فعلى ظاهر الرواية الاعتبار لحال الرجل، فإن كان موسراً وهي معسرة فعليه نفقة الموسرين، وفي عكسه نفقة المعسرين. وأما على المفتى به فتجب نفقة الوسط في المسألتين، وهو فوق نفقة المعسرة ودون نفقة الموسرة."
(کتاب الطلاق،باب النفقة،574/3،ط:سعيد)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، فإن نفقة المملوك على مالكه والغني في ماله".
(قوله بأنواعها) من الطعام والكسوة والسكنى، ولم أر من ذكر هنا أجرة الطبيب وثمن الأدوية، وإنما ذكروا عدم الوجوب للزوجة، نعم صرحوا بأن الأب إذا كان مريضا أو به زمانة يحتاج إلى الخدمة فعلى ابنه خادمه وكذلك الابن".
(کتا ب الطلاق، باب النفقة، مطلب الصغير والمكتسب نفقة في كسبه لا على أبيه، ج:3، 612، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102568
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن