بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد ماموں کا باپ کو بچوں سے ملنے سے روکنا


سوال

میں نے اپنی بیوی کو تین سال پہلے ایک طلاق فون پر دی تھی، اس کے بعد میرے سالے مجھے اپنے بچوں سے ملنے نہیں دیتے، سب سے بڑے بچے کی عمر 17  سال ہے، درمیان والے کی عمر 16 سال ہے اور سب سے چھوٹی والے کی عمر 15 سال ہے۔

اب مجھے یہ بتائیں کہ میرے بچوں کا کیا حکم ہے؟ آیا وہ اپنی ماں کے پاس رہیں گے یا میرا بھی حق ہے؟ 

جواب

لڑکے کی عمر جب تک سات سال   نہ  ہوجائے اور لڑکی کی عمر نَو سال ہوجائے، اس وقت تک بچوں کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے، اس کے بعد  ان کی پرورش کا حق بچوں کے بالغ ہونے تک باپ کو حاصل ہے، اس کے بعد بچوں کو اختیار ہے کہ جس کے پاس چاہیں رہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ تینوں بچے بالغ ہیں، اس لیے ان کو اختیار حاصل ہے کہ چاہیں تو باپ کے پاس رہیں، چاہے تو ماں کے پاس رہیں، تاہم بچے ماں کے پاس ہوں، یا باپ کے پاس، دونوں میں سے کسی کو بچوں ملنے سے روکنا جائز نہیں ہے۔

رد المحتار میں ہے:

"في التتارخانية: ‌الولد ‌متى ‌كان ‌عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ"

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:571، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101586

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں