
میاں بیوی کے درمیان طلاق ہوگئی ہے، اب لڑکے والوں نے شادی کا تمام سامان جہیز وغیرہ لڑکی کو واپس کردیا ہے، جب کہ بری و سونے کے زیورات جن کا وزن تقریبًا تین تولہ ہے، اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ کیا لڑکے والے وہ واپس لینے کا حق رکھتے ہیں؟
واضح رہے کہ لڑکی کو بری اور منہ دکھائی کے موقع پر ملنے والے تحائف کپڑے، سونے کے زیورات وغیرہ لڑکی کی ہی ملکیت ہوتے ہیں، طلاق کے بعد بھی یہ سامان لڑکی کی ہی ملکیت ہوگا، اسی طرح جو چیز بطورِ مہر کے دی گئی ہے، وہ بھی لڑکی کی ہی ملکیت ہوگا، اس کے علاوہ جو زیورات سسرال والوں کی طرف سے لڑکی کو ملتے ہیں، ان میں یہ تفصیل ہے کہ اگر زیورات دیتے وقت سسرال والوں نے اس بات کی صراحت کی تھی کہ یہ بطورِ عاریت یعنی صرف استعمال کرنے کے لیے ہیں، تو پھر یہ زیورات لڑکے والوں کی ملکیت ہوں گے اور طلاق کی صورت میں یہ زیورات ان کو واپس کرنا ضروری ہے اور اگر سسرال والوں نے ہبہ (گفٹ ) اور مالک بنا کر دینے کی صراحت کردی تھی، تو پھر ان زیورات کی مالک لڑکی ہوگی اور اگر زیورات دیتے وقت کسی قسم کی صراحت نہیں کی تھی، تو پھر لڑکے کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا، اگر ان کا عرف و رواج بطورِ ملک دینے کا ہے، یا ان کا کوئی رواج نہیں ہے، تو ان دونوں صورتوں میں زیورات کی مالک لڑکی ہوگی اور اگر بطور، عاریت دینے کا رواج ہے، تو پھر سسرال والے ہی مالک ہوں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."
(كتاب النكاح، ج:3، ص:158، ط:سعيد)
وفيه أيضا:
"ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا."
(كتاب النكاح، ج:3، ص:153، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101608
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن