بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1448ھ 17 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق ہوجانے کے بعد شوہر کے ذمہ بیوی کے مہر اور نان نفقہ کی ادائیگی کا حکم


سوال

ایک شخص  نے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا، نکاح کے وقت پانچ تولہ سونا حق مہر مقرر ہوا، بعد میں شوہر نے ڈیڑھ تولہ سونا حق مہر ادا کیا، جبکہ ساڑھے تین تولہ اب بھی باقی ہے۔ 

رخصتی بھی ہوچکی تھی، میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا، ان کے بچے بھی ہیں، مزید یہ کہ نکاح کے بعد تقریباً  بیس سال تک شوہر نے بیوی کو اس کا نان نفقہ اور دیگر ضروری اخراجات مقررہ طریقہ کے مطابق ادا نہیں کیے، بعد ازاں شوہر نے بیوی کو طلاق دی۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا بیوی ساڑھے تین تولہ سونا حق مہر وصول کرنے کی مستحق ہے؟  کیا شوہر پر بیس سال کے نان نفقہ کی ادائیگی لازم ہے؟ کیا طلاق دینے کے بعد بھی باقی حق مہر شوہر کے ذمہ واجب رہے گا؟ اس معاملہ میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ 

نوٹ: بیوی نے حق مہر معاف نہیں کیا ہے۔ 

جواب

صورت مسئولہ میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دی، اور اب تک شوہر نے اپنی بیوی کو اس کا  ساڑھے تین تولہ سونا مہر ادا نہیں کیا ہے، اور نہ ہی بیوی نے مہر معاف کیا ہے، تو ایسی صورت میں  شوہر کے ذمہ شرعاً لازم ہوگا کہ اپنی بیوی کو اس کا بقیہ مہر(ساڑھے تین تولہ سونا)  ادا کردے۔ 

نیز گذشتہ بیس سال کے نان نفقہ کے بارے میں حکم یہ ہوگا کہ اگر عدالت نے مذکورہ عورت( بیوی) کے لیے نان نفقہ مقرر کردیا تھایا دونوں میاں بیوی نے آپس کی رضامندی سے اسے طے کردیا تھا،اور شوہر نے اس کی ادائیگی نہیں کی، تو ایسی صورت میں طلاق ہوجانے کے بعد شوہر کے ذمہ مکمل بیس سال کا نان نفقہ اپنی بیوی کو ادا کرنا شرعاً لازم ہوگا، اور اگر نان نفقہ نہ ہی عدالت نے مقرر کیا تھا، اور نہ ہی میاں بیوی نے آپس میں اسے طے کیا تھا، تو پھر شوہر کے ذمہ نان نفقہ کی ادائیگی  لازم نہیں ہوگی۔  

فتاوی شامی میں ہے: 

"ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما).....قال في البدائع: وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك، وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع."

(كتاب النكاح، باب المهر، ج: 3، ص: 102، ط: ایچ ایم سعید)

وفيه أيضاً: 

"(والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.....(قوله والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج: 3، ص: 594، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144802101185

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں