
ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں اس طرح دیں کہ اس نے یہ الفاظ تین مرتبہ کہے: "میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے۔"
الف۔ ایسی مطلقہ کی عدّت کتنے دن ہوگی جو حاملہ نہ ہو اور اسے حیض آتا ہو؟
ب۔عدت کے دوران مطلقہ کے نفقے کی ادائیگی میں شوہر کے ذمے کتنی رقم لازم آتی ہے؟ً
ج۔مذکورہ شخص کی تین نابالغ غیر شادی شدہ بیٹیاں ہیں، ان کے نان و نفقہ کی ذمہ داری کس پر ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعۃً درست ہے تو جب مذکورہ شخص نے تین بار اپنی بیوی سے کہا: "میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے"، تو ان الفاظ کے نتیجے میں مذکورہ شخص کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہو چکی ہیں۔ وہ مذکورہ شخص پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے اور نکاح ٹوٹ چکا ہے، جس کی وجہ سے مذکورہ شخص کے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں۔ پس مطلقہ بیوی اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں) گزار کر آزاد ہوگی ،چاہے تودوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
الف۔ عدت، طلاق کے وقت سے شروع ہوتی ہے، اور چونکہ عورت غیر حاملہ ہے اور اسے ماہواری آتی ہے، اس لیے عدت کی مدت تین ماہواریاں مکمل گزرنے تک ہوگی۔
ب۔طلاق دینے کی صورت میں عدت کا خرچہ شرعًا مرد کے اوپر لازم ہے، البتہ اس کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں، بلکہ اس میں مرد اور عورت کی مالی حالت کا اعتبار ہے۔ جتنا شوہر کی وسعت ہو اور عورت کی ضرورت پوری ہو سکے، اسی کے بقدر نان و نفقہ واجب ہے۔ لہٰذا شوہر کی آمدنی اور عورت کے ضروری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی رضامندی سے خرچہ متعین کر لیا جائے۔ نیز فقہاء کرام نے یہ بھی لکھا ہے کہ عدت کے نان و نفقہ کی وہی مقدار ہے جو شوہر قبل از طلاق دیتا تھا۔
ج۔ان نابالغ، غیر شادی شدہ بیٹیوں کا نان و نفقہ — بلوغت سے قبل اور بلوغت کے بعد بھی شادی تک — شرعًا والد کے ذمے واجب ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"كرر لفظ الطلاق وقع الكل."
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج : 3، ص : 293، ط : سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]."
(کتاب الطلاق،فصل في حكم الطلاق البائن، ج : 3، ص : 187، ط : دار الكتب العلمية)
الاختيار لتعليل المختار میں ہے:
" عدة الحرة التي تحيض في الطلاق والفسخ بعد الدخول ثلاث حيض، والصغيرة والآيسة ثلاثة أشهر، وعدتهن في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام، وعدة الأمة في الطلاق حيضتان، وفي الصغر والإياس شهر ونصف، وعدتها في الوفاة شهران وخمسة أيام، وعدة الكل في الحمل وضعه.
وتجب بثلاثة أشياء: بالطلاق، وبالوفاة، وبالوط."
(كتاب الطلاق، باب العدة، ج : 3، ص : 172، ط : دار الكتب العلمية)
المحيط البرہانی میں ہے:
"ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة، لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح ثم نفقة العدة إنما لنفقة النكاح وليست شيء آخر.
حتى قلنا: إن كل امرأة تستحق النفقة حال قيام النكاح تستحق النفقة حال قيام العدة لكل أمر لا تستحق النفقة حال قيام النكاح لا تستحق النفقة حال قيام العدة ."
(كتاب النفقات، الفصل الثاني في نفقة المطلقات، ج : 3، ص : 553، ط : دار الكتب العلمية)
فتح القدير میں ہے:
"فالإناث عليه نفقتهن إلى أن يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، وليس له أن يؤاجرهن في عمل ولا خدمة وإن كان لهن قدرة، وإذا طلقت وانقضت عدتها عادت نفقتها على الأب."
(كتاب الطلاق، باب النفقة، ونفقة الأولاد الصغار على الأب، ج : 4، ص : 410، ط : دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101853
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن