بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق معلق کا حکم


سوال

زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگرتم نےمیرے بھائی کی بیوی سے بات کی  تو تجھے طلاق ہوجائیگی،اسی طرح اگر تو نے اپنی بہن کے گھرپر  قدم رکھا تو تجھے طلاق ہوجائیگی،ہوا یہ کہ ایک مرتبہ زیدکے بھائی کی بیوی زید کے گھرآئی ،دروازہ پر دستک دی ،زید کی بیوی نے پوچھا کون ہے ،تو زید کے بھائی کی بیوی نے جواب دیا میں ہوں،زید کی بیوی کونہیں معلوم تھا کہ باہر کون ہے،ایک مرتبہ  زید کی بیوی زید کے بھائی کے گھر جاتی ہے اور زید کا بھائی ،زید کی بہن اور زید کے بھائی کی بیوی تینوں موجود ہوتے ہیں تو زید کی بیوی زید کے بھائی سے اور زید کی بہن سے کہتی ہے کہ دیکھو میں بھابھی(یعنی زید کے بھائی کی بیوی سے)سے بات کررہی ہوں ،لہذا میرا شوہر سے اب رشتہ ختم ہوگیا،یہ کہہ کر زید کی بیوی چلی جاتی ہے جبکہ اس میں زید کے بھائی کی بیوی سے کوئی بات نہیں کرتی ہے ،بس صرف زید کی بہن اور زید کے بھائی سے بول کر اپنی ماں کے گھر چلی جاتی ہے۔اسی طرح زید کی بیوی اپنی بہن کے گھر جاتی ہے اور ان سے بات چیت کرتی ہے ،ٹہر تی ہے اور واپس اپنے اماں کے گھر چلی جاتی ہے،زید کی بیوی اپنی ماں کے گھر پر ہے، اب معلوم یہ کرناہے کہ کیا زید کی بیوی کا اس طرح کرنے سے طلاق واقع ہوگئی ہے ،اگر ہوئی ہے توطلاق کی کون سی قسم ہے،دوبارہ رشتہ قائم کس صورت میں ہوسکتی ہے ،اس میں شرعی احکام کیا ہے واضح فرمادیں۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ صرف زید کی بیوی نے دستک کے وقت یہی پوچھا کہ کون ہے ،اور دوسرے واقعہ میں زید کے بھائی اور بہن کو گواہ بنا کر یہی کہا کہ میں بھابھی سے بات کر رہی ہوں اور پھر کوئی بات نہیں کی تو ان دونوں صورتوں میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ جب زید کی بیوی اپنی بہن کےگھر گئی  تو اس وقت ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ،زید عدت میں رجوع کر سکتا ہے،اور یہ تعلیق بھی ختم ہوگئی ،یعنی اب بہن کے گھر جانے سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،البتہ عدت میں یا رجوع کی صورت میں زید کی بیوی بھابھی سے بات کرتی ہے تو ایک اور طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"حلف لا يكلم فلانا فقرع فلان الباب فقال الحالف كيست أو قال: كيست أين أو قال: كيست آن قال بعضهم: لا يحنث إلا أن يقول: كئى تو هو المختار كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الیمین، ج:2، ص:98، ط:رشیدیہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420،ط: دارالفکر)

وفيه أيضا:

"وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعۃ،ج:1،ص:470،ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102017

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں