بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاقِ معلق کا حکم


سوال

خاوند اور بیوی کے درمیان بیٹی کے رشتہ کرانے میں جھگڑا ہوا، خاوند نے بیوی سے کہہ دیا کہ ”اگر میں نے اپنی بیٹی کا رشتہ بیوی کی بہن کے بیٹے سے کیا تو میری بیوی پر تین طلاق ہو“۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر اس صورت میں شوہر مداخلت نہ کرے (کیوں کہ شوہر اب دلی طور پر مذکورہ رشتہ ہونے پر راضی ہوگیا ہے) تو کیا بیوی یہ رشتہ اپنی بہن کے بیٹے سے کراسکتی ہے؟
اور بیوی کا مذکورہ رشتہ کرانے سے کیا  وہ معلّق طلاقیں واقع  ہوجائیں گی؟ اگر طلاقیں واقع ہوتی ہیں تو کونسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ جس میں طلاق بھی واقع نہ ہو، اور مذکورہ جگہ رشتہ بھی ہوسکے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ رشتہ کرانے میں شوہر کسی قسم کا کوئی کردار ادا نہ کرےاور نہ ہی کسی کو کہے، بلکہ بیوی ہی اپنی طرف سے یہ رشتہ کراتی ہے  اور سب کچھ سنبھالتی ہے، تو ایسی صورت میں شوہر کی جانب سے معلق کی گئی طلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔ البتہ اگر شوہر بیوی، یا کسی اور کو اپنی طرف سے وکیل، یا نمائندہ بناتا ہے اور اس کو یہ کہتا ہے کہ آپ کو میری طرف سے اجازت ہے یہ رشتہ کراؤ  تو پھر وہ معلّق تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور بیوی شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق، 1/ 420، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے:

‌"ولو ‌حلف ‌لا ‌يبيع ‌أو ‌لا ‌يشتري ‌فأمر ‌غيره ففعل فجملة الكلام فيمن حلف على فعل فأمر غيره ففعل إن فعل المحلوف عليه لا يخلو إما أن يكون له حقوق أو لا حقوق له فإن كان له حقوق.
فإما أن ترجع إلى الفاعل أو إلى الآمر أو لا فإن كان له حقوق ترجع إلى الفاعل كالبيع والشراء والإجارة والقسمة لا يحنث لأن حقوق هذه العقود إذا كانت راجعة إلى فاعلها لا إلى الآمر بها كانت العقود مضافة إلى الفاعل لا إلى الآمر على أن الفاعل هو العاقد في الحقيقة لأن العقد فعله وإنما للآمر حكم العقد شرعا لا لفعله."

(كتاب الأيمان، فصل في الحلف على أمور شرعية، 3/ 82، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وفي كل عقد لا بد من إضافته إلى موكله) يعني لا يستغني عن الإضافة إلى موكله، حتى لو أضافه إلى نفسه لا يصح ابن كمال (كنكاح وخلع وصلح عن دم عمد أو عن إنكار وعتق على مال وكتابة وهبة وتصدق وإعارة وإيداع ورهن وإقراض) وشركة ومضاربة عيني (تتعلق بموكله) لا به لكونه فيها سفيرا محضا."

(كتاب الوكالة، 5/ 514، ط: سعيد)

وفيه أيضا:

"(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك."

(كتاب النكاح، 3/ 9، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101469

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں