
ایک خاتون کے شوہر نے گیارہ بارہ سال پہلے دوسری لڑکی سے شادی کرلی،جس کی وجہ سے پہلی بیوی شوہر سے علیحدہ رہنے لگی، اس عرصہ میں سوکن کی طرف سے مطلقہ ہونے کے طعنوں کی وجہ سےپہلی بیوی نےکورٹ سے خلع لینے کا فیصلہ کیا، اور درخواست دائر کی، کورٹ کی طرف سے تین بار نوٹس ملنے کے باوجود شوہر کورٹ میں حاضر نہیں ہوا،جس کی وجہ سے کورٹ نے یک طرفہ خلع کا فیصلہ دے دیا، شرعی عدت گزارنےکے بعد تقریباً گیارہ سال پہلے اس خاتون نے دوسرے شخص سے شادی کرلی، اور تاحال اس کے ساتھ رہ رہی ہے،یہ دوسری شادی بھی کورٹ میرج تھی، دوسری شوہر سے اس خاتون کی کوئی اولاد نہیں ہے، پہلے شوہر سے پانچ بیٹیاں تھیں،جن میں سے چار کی شادیاں ہوچکی ہیں۔
اب اس دوسرے شوہر کو معلوم ہوا کہ کورٹ کی طرف سے یک طرفہ خلع سے طلاق واقع نہیں ہوتی، تو گیارہ سال قبل جو نکاح اس خاتون کے ساتھ کیا ہے وہ نکاح ہی صحیح نہیں تھا، کیونکہ یک طرفہ خلع سے طلاق نہ ہونے کی وجہ سے وہ خاتون پہلے شوہر کے نکاح میں تھی، تو نکاح پر نکاح صحیح نہیں ہوا،دوسرا شوہر اب پریشان ہے۔
سوال یہ ہے کہ کورٹ سے یک طرفہ خلع یافتہ عورت سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟
اگر نہیں تو اس جوڑے نے جو لاعلمی میں گیارہ سال ساتھ گزارے ہیں، اس کا کیا کفارہ ہوگا ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون کی جانب سے حاصل کردہ خلع کی جو دستاویزات سائل نے فراہم کی ہیں، اس کے مطابق مذکورہ خلع چونکہ یکطرفہ بنیاد پر لیا گیا تھا، شوہر نے نہ عدالتی کاروائی کے دوران پیش ہوکر خلع دینے کی رضامندی ظاہر کی تھی، اور نہ ہی فیصلہ کے بعد رضامندی کا اظہار کیا تھا ،تو ایسا یکطرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں تھا، کیوں کہ خلع کے شرعاً معتبر ہونے کے لیے بیوی کے جانب سے اپنے مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کرنا، اور شوہر کی جانب سے اس مطالبہ کو تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے،لہذا مذکورہ خاتون بدستور پہلے شخص کے نکاح میں ہے، نا واقفیت میں مذکورہ شخص نے مذکورہ خاتون سے جو نکاح کیا، وہ منعقد ہی نہیں ہوا،لہذا فوری طور پر دونوں کوعلیحدگی اختیار کرنا شرعاً ضروری ہوگا، اوراتنے عرصہ جو ساتھ رہے اس پر صدق ِ دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہوگا۔
المبسوط للسرخسی میں ہے :
"(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج : 6، ص : 173، ط : دار المعرفة)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"لو قال: خلعتك بكذا فقالت: نعم فليس بشيء كأنها قالت: نعم خلعتني ولو قالت: رضيت أو أجزت صح وكذا لو قالت: طلقني بكذا فقال: نعم فليس بشيء لأنه وعد بخلاف قولها أنا طالق بألف فقال: نعم يقع كأنه قال: نعم أنت طالق بألف كذا في غاية السروجي."
(کتاب الطلاق، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه، ج : 1، ص : 488، ط : رشیدیه)
فتاوی شامی میں ہے :
"(ھو).......(إزالة ملك النكاح)......(المتوقفة على قبولها)."
(قوله: المتوقفة) بالرفع صفة لإزالة، وقوله: على قبولها: أي المرأة. قال في البحر: ولا بد من القبول منها حيث كان على مال، أو كان بلفظ خالعتك، أو اختلعي. اهـ. وفي التتارخانية: قال لامرأته: إذا دخلت الدار فقد خالعتك على ألف فدخلت الدار يقع الطلاق بألف يريد به إذا قبلت عند الدخول اهـ. ومفاده عدم صحة القبول قبل الشرط كما نذكره."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج : 3، ص : 440،439، ط : سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100668
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن