بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1448ھ 16 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق دینے پر مالی جرمانہ کی شرط کا حکم


سوال

اگر نکاح کے وقت یہ شرط طے کی جائےکہ شوہر اگر بیوی کو طلاق دے گا تو وہ بطور جرمانہ ایک مخصوص رقم ادا کرے گا، تو ایسی شرط کی حیثیت کیا ہے؟ کیا ایسی شرط لازم ہوگی؟ اور شوہر پر شرط کے مطابق مالی جرمانہ لازم ہوگا؟ یا یہ شرط شرعاً باطل  اور ناقابل عمل ہے؟ شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔ 

جواب

واضح رہے کہ اگر نکاح کے وقت کوئی ایسی شرط لگائی جائے جو نکاح کے تقاضوں کے خلاف ہو، تو ایسی شرط شرطِ فاسد کہلاتی ہے، اور اس قسم کی شرائط کا نکاح پر مطلقاً اثر نہیں پڑتا، اور نہ ہی ایسی شرائط کا پورا کرنا لازم ہوتا ہے، اسی طرح کسی پر مالی جرمانہ عائد کرنا بھی شرعاً ناجائز ہے، اور مالی جرمانہ کا لینا یا دینا دونوں شرعاً حرام ہیں۔ 

لہذا صورت مسئولہ میں شوہر کے طلاق دینے کی صورت میں شوہر پر مالی جرمانہ کی شرط لگانا شرط فاسد ہے، اس لیے اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے گا تو شوہر پر کسی قسم کی رقم کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی، بلکہ اگر شوہر نے مہر ادا نہ کیا ہو اور نکاح کے بعد خلوت صحیحہ بھی نہ ہوئی ہو، تو طلاق دینے کے بعد شوہر کے ذمہ صرف آدھا مہر لازم ہوگا، اور خلوت صحیحہ ہوجانے کے بعد مکمل مہر کی ادئیگی لازم ہوگی، اس کے علاوہ کسی قسم کی رقم بھی شوہر کے ذمہ واجب الاداء نہیں ہوگی۔ 

فتاوی شامی میں ہے: 

"(ولكن لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط بخلاف ما لو علقه بالشرط.....(قوله: مع الشرط فاسد) كما إذا قال تزوجتك على أن لا يكون لك مهر فيصح النكاح ويفسد الشرط ويجب مهر المثل."

(كتاب النكاح، باب المحرمات، ج: 3، ص: 53، ط: ایچ ایم سعید)

وفیہ أیضاً: 

"(لا بأخذ مال في المذهب) بحر.....(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه."

(كتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، ص: 61، ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير. ومعنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق."

(کتاب الحدود، فصل في التعزیر، ج: 2، ص: 185، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم 


فتویٰ نمبر : 144802101442

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں