
میری بیوی دو مرتبہ ناراض ہو کر ہمارا گھر چھوڑ کر میکے چلی گئی، وہ میرے خاندان پر بہت سارےالزامات لگا رہی ہے، اور طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے،اور میں بھی اس کو مزید رکھنا نہیں چاہتا ۔
مہربانی فرما کر مجھے طلاق دینے کا حکم اور طریقہ بتائیں شرعاًکون سا طریقہ پسندیدہ ہے؟
بلاوجہ طلاق دیناسخت گناہ ہے،اللہ تعالیٰ کوناراض کرنااور شیطان کوخوش کرناہے؛لہذا اولاً تو نباہ کی ہر ممکن کوشش کی جائے، اگر کسی کی فہمائش یا کسی بھی طریقے سے بات بن سکتی ہو، تو اس سے بھی دریغ نہ کیا جائے،البتہ اگر شوہراور بیوی میں ایسی رنجش ہوگئی ہوکہ ایک دوسرے کے حقوق پامال ہورہے ہوں،نباہ اورصلح کی کوئی صورت باقی نہ رہی ہو،اورطلاق کے بغیرچارہ ہی نہ ہو تو طلاق دینے کابہترطریقہ یہ ہے کہ عورت کو پاکی کی حالت میں ایک طلاق رجعی دے دی جائے،ایک طلاق کے بعد عدت کے اندر اختلاف ختم ہوجائیں، اور نباہ کی راہ ہموار ہوجائے، تو شوہر رجوع کرلے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی سے زبانی کہہ دے کہ میں نے تم سے رجوع کرلیا، اور اپنے اس قول پر گواہ بنا لینا مستحسن ہوگا، البتہ اگر عدت کے دوران مصالحت کی کوئی صورت پیدا نہ ہو، تو عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور ماہواری آتی ہو، اورحمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ ) گزرتے ہی مطلقہ بیوی سائل کے نکاح سے آزادہو جائے گی، اور اس کے لیے کسی اور سے نکاح کرناجائز ہوگا۔
مذکورہ طریقہ طلاق کو کو اصطلاح شریعت میں" طلاق احسن" کہتے ہیں۔
نیز ایک طلاق رجعی کے بعد عورت کی عدت گزرجائے پھرصلح کی کوئی صورت نکل آئے تو نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح بھی ہوسکتاہے۔ایسی صورت میں آئندہ دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔
بیک وقت تین طلاقیں دینا شرعاً ناپسندیدہ ہے، اس لیے بیک وقت تین طلاقیں نہ دی جائیں۔ لیکن اگر تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی جائیں تو بھی واقع ہوجاتی ہیں،اورتین طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"أحسن الطلاق في ذوات القرء أن يطلقها طلقة واحدة رجعية في طهر لا جماع فيه ولا طلاق ولا في حيضة طلاق ولا جماع ويتركها حتى تنقضي عدتها ثلاث حيضات ."
(كتاب الطلاق،ج:3،ص:88۔ط:دارالكتب العلميه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100920
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن